Skip to main content
Arsh Farsh Par Aaqa cover art

Arsh Farsh Par Aaqa

by Hafiz Ahmed Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 10:37

Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheed

Story & Cultural Context

A popular Urdu Naat recited by Hafiz Ahmed Raza Qadri, expressing deep love and reverence for the Prophet Muhammad (PBUH), describing his honor and presence spanning from the heavens (Arsh) to the earth (Farsh).

← Browse
Arsh Farsh Par Aaqa

Arsh Farsh Par Aaqa

Nasheeds 10:37 2018
AI-Enriched75%
Instruments
vocal-only

Credits

LyricistTraditional
LabelWithout label

Story & Cultural Context

A popular Urdu Naat recited by Hafiz Ahmed Raza Qadri, expressing deep love and reverence for the Prophet Muhammad (PBUH), describing his honor and presence spanning from the heavens (Arsh) to the…

Titles in Other Languages

EnglishThe Master on the Heavens and the Earth

Lyrics

کے عرش فرش پر آقا آپ کے اوجالے ہیں
عرش فرش پر آقا آپ کے اوجالے ہیں
عرش فرش پر آقا آپ کے اوجالے ہیں
عرش فرش پر آقا آپ کے اوجالے ہیں
میرے جیسے لاکھوں کی لاکھوں آپ نے سنبھالے ہیں
میرے جیسے لاکھوں کی لاکھوں آپ نے سنبھالے ہیں
کون سا نصیب والا ہے کون سا نصیب والا ہے آپ کا حوالہ محمد آپ کا حوالہ نبی جی آپ کا حوالہ آپ کے حوالے ہیں
مدتوں کے نیکوں میں میرا نام نہیں نبی کے در کا میں نوکر ہوں کوئی عام نہیں
تیرا پٹا گلے میں پلوگے ظالم اگر نہ کرتا کسی سے کوئی گناہ نہیں
آپ کا حوالہ محمد آپ کا حوالہ آپ کے حوالے ہیں
صدقے سے میرے جیسے لاکھوں کی لاکھوں میرے جیسے لاکھوں کی آپ نے سنبھالے ہیں
اس بات کو سن کر اگر آپ خموش رہے تو پھر میں آپ کو بعد میں آ کے پوچھوں گا کہ آپ کا ذوق کیسا ذوق ہے آپ کا کہ آپ اتنی بڑی بات سن کے خموش رہے بات جتنی بڑی ہے اس سے زیادہ بلند آواز میں سبحان اللہ آنے چاہیے
کہ تیری نوکری آقا سبحان اللہ تیری نوکری آقا سبحان اللہ
ارے ان کو کیا خبر ہوگی ان کے دل پہ تالے ہیں
میرے جیسے لاکھوں کی آپ نے سنبھالے ہیں
بچپتی چاہے کتا کو شہنشاہی مل جائے وہ مسہرا کے اندھیرے میں تو سوئی سوئی جائے
تیری نوکری آقا سبحان اللہ پادشاہ دی غلامی محمد پادشاہ دی غلامی محمد
آپ کا غلام ہوا تیری نوکری آقا سبحان اللہ
ان کو کیا خبر ہوگی ان کے دل پہ تالے ہیں
میرے جیسے لاکھوں کی آپ نے سنبھالے ہیں
تپتے ریت پر دیکھو بلال نے پڑھا کلمہ
آپ کے غلاموں کے کام ہی نرالے ہیں
میرے جیسے لاکھوں کی آپ نے سنبھالے ہیں
نصیب تو ملے گی کبھی آپ کے نوازوں کی نصیب تو ملے گی کبھی آقا آپ کے نوازوں کی دین پر فدا ہو گئے نازوں سے جو پالے ہیں میرے جیسے لاکھوں کی آپ نے سنبھالے ہیں
کسی اور در پہ جانے کی سوچ بھی سوچ بھی نہیں سکتے
کیونکہ آج تک جو کھائے ہیں وہ آپ کے نوالے ہیں
آج تک جو کھائے ہیں محمد آج تک جو کھائے ہیں وہ آپ کے نوالے ہیں
آج تک جو کھائے ہیں وہ آپ کے نوالے ہیں میرے جیسے لاکھوں کی آپ نے سنبھالے ہیں
سبحان اللہ