Skip to main content
Lo madinay ki tajalli se lagaye huye hain cover art

Lo madinay ki tajalli se lagaye huye hain

by Hafiz Ahmed Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 8:04

Genre: nasheed, naatYear: 2018Type: nasheedComposer: Traditional

Story & Cultural Context

A classic Urdu Naat expressing deep yearning and spiritual connection to the holy city of Madinah. The lyrics beautifully describe the spiritual illumination reflecting on the hearts of the devotees who keep their gaze fixed on the light of Madinah.

← Browse
Lo madinay ki tajalli se lagaye huye hain

Lo madinay ki tajalli se lagaye huye hain

Nasheeds 8:04 2018
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

ComposerTraditional
LyricistAmeer Minai
LabelWithout label

Story & Cultural Context

A classic Urdu Naat expressing deep yearning and spiritual connection to the holy city of Madinah. The lyrics beautifully describe the spiritual illumination reflecting on the hearts of the devotees…

Titles in Other Languages

العربيةلو مدينے كي تجلي سے لگائے ہوئے ہیں
EnglishLo Madine Ki Tajalli Se Lagaye Hue Hain

Lyrics

لو مدینے کی لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں دل کو ہم مطلعے انوار بنائے ہوئے ہیں اور کشتیوں اپنی کشتیوں اپنی نارے سے لگائے ہوئے ہیں چاہو دوبے جو محمد کے تیرائے ہوئے ہیں دل کو ہم مطلعے انوار بنائے ہوئے ہیں اور دک سب قبر کی نیند سے اٹھنا کوئی آسان نہ تھا قبر کی نیند سے اٹھنا کوئی آسان نہ تھا ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں اور بوسائے در سے روکنا تو خیر دروانہ وہ خود نہیں آئے یہ مہمان بلائے ہوئے ہیں وہ خود نہیں آئے یہ مہمان بلائے ہوئے ہیں اور دک سب گزشتہ دس بارہ سال کی تاریخ میں یہ بات دیکھی ہے کہ عقیدے پہ الحمدللہ کبھی آپ کے پلیٹ فارم پہ کمپرمائز نہیں ہوا کبھی کریں گے بھی نہیں انشاءاللہ کبھی کریں گے بھی نہیں تو میں بڑا برملہ یہ نام آتے ہی یہ میں اشار پڑھا کرتا ہوں آج بھی پڑھا ہوں نام آنے سے افمک رو مرنا لب پر تو بگڑتا ہے وہ تو پہنوں میں سلائے ہوئے ہیں تو بگڑتا ہے وہ تو پہنوں میں سلائے ہوئے ہیں اور حاضرو حاضرو نور و بشر غیب کو چھوڑ ولیت کو مت بھولنا حاضرو حاضرو نور و بشر غیب کو چھوڑ شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے شرم اسی آسے نہیں سمجھے جاتا یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئے ہیں یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئے ہیں ہم کو کتنا خوش نصیب ہیں ہمارے پاس کیا ایسی چیز ہے جس پہ میں کہہ رہا ہوں تیری نسبتیں ہی تو ہیں اسی کی صدقہ ہم لوگ کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا چاہیے اور کرتے کیا ہو کرتے کیا ہو تو ہم بتا دیتے ہیں جو پیر صاحب نے کہا ہے وہی بتا دیتے ہیں بارہ فانالہ کا ذکرکت صوم لے کر نظر ہم بنے خضرہ پہ جمعائے ہوئے ہیں کیوں نہ پڑنا تیرے عمال کا بھاری ہو نصیر اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں دل کو امت لائے انوار بنائے ہوئے ہیں واہ واہ سبحان اللہ