Skip to main content
Sar e Lamakan Se Talab Hui cover art

Sar e Lamakan Se Talab Hui

by Hafiz Ahmed Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 7:29

Genre: naat, nasheedYear: 2023Type: nasheed

Story & Cultural Context

This is a traditional Naat-e-Rasool written by Imam Ahmad Raza Khan Barelvi, describing the miraculous night journey (Isra and Mi'raj) of the Prophet Muhammad (PBUH) to the heavens and beyond (Lamakan). It was released as a special recitation for the occasion of Shab-e-Meraj in 2023.

← Browse
Sar e Lamakan Se Talab Hui

Sar e Lamakan Se Talab Hui

Nasheeds 7:29 2023
AI-Enriched80%
OccasionShab-e-Meraj
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

LyricistAala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan Barelvi
LabelHafiz Ahmed Raza Qadri

Story & Cultural Context

This is a traditional Naat-e-Rasool written by Imam Ahmad Raza Khan Barelvi, describing the miraculous night journey (Isra and Mi'raj) of the Prophet Muhammad (PBUH) to the heavens and beyond…

Titles in Other Languages

EnglishSar e Lamakan Se Talab Hui

Lyrics

خطاب ہو گئے سلطان انبیاء کے لیے
میرے رفور چلے دید کبریا کے لیے

نیا رنگ ہے فاروقی آسمانوں کا
سجا ہے عرش بھی معراج مصطفیٰ کے لیے

سرِ لا مکان سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی
سرِ لا مکان سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی

کوئی حد ہے ان کے عروج کی
کہیں فلک پہ رہے عرش پر
بجلیاں بن کے گرتے رہے
ان کے قدموں پہ ہو کر نظر

کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علیہ والے ہی
علاقہ اُلا بکمال ہی
کشفت جابی جمال ہی
حسنت جمیوں کے صوال ہی
صلو علیہ والے ہی
سرِ لا مکان سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی
ان نبی
اُس سفر زمین سے عرش کا
سبھی کچھ ٹھہر گیا فرش کا
نیاگِ رنج سے نکل گئی
میری واپسی سے زندگی
سرِ لا مکان سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علیہ والے ہی
وہ درود تجھ پہ بھی آمنا
تیرے چاند پر بھی سلام ہو
تیری گود کتنی عظیم ہے
ملائ جس کو ماں ہے تمام ہے
وہ خدا کے نور کو دیکھ کر
بھی جہان والوں میں آگئے
سرِ عرش جانا کمال تھا
کہ وہاں سے آنا کمال ہے
سرِ عرش پر ہے تیری گزر
دل فرش پر ہے تیری نظر
ملکوت و ملک میں کوئی شئے
نہیں وہ جو تجھ پہ آیا نہیں
وہی لا مقع کے مقی ہوئے
سرِ عرش تخت نشی ہوئے
وہ نبی ہے جن کے ہے یہ مقام
وہ نبی ہے جن کے ہے یہ مقام
وہ نبی ہے جن کے ہے یہ مقام
وہ خدا ہے جس کا مقام نہیں
سرِ لا مقع سے طلب ہوئی
سوئے منتہاں وہ چلے نبی
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علی و آلہی
وہ بڑے چلے ہوا کیس طرح
کوئی جانے کیسے بھلا ذرا
بسا میرا زنیاز ہے
وہ ہی جانے جن کا ہے معاملہ
سرِ لا مقع سے طلب ہوئی
سوئے منتہاں وہ چلے نبی
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علی و آلہی
جو گیا وہ فرش سے لا مقع
وہ نکل گئی تھی جہاں کی جان
طب کے زمین ورق فلک
سبھی منتظر ملے اک جھلک
لٹ زلف کی جو گئی لٹک
وہ جہان سارا گیا مہک
ہوئی مص بلبلے اس قدر
ہوئے غنچے بولے چٹک چٹک
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علی و آلہی
صلو علی و آلہی
سر لا مکان سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علی و آلہی
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
صلو علی و آلہی
صلو علی و آلہی