
Genre: nasheed, naat, munshidYear: 2023Type: nasheedComposer: Zaki Ahmad
Story & Cultural Context
An emotional Urdu kalaam performed by Zaki Ahmad, reflecting on the struggles of life, spiritual longing, and seeking solace in faith. Released by Peace Studio and Nasheed Club, it gained popularity for its heart-touching melody and deep poetic lyrics.
← Browse

AI-Enriched80%
Credits
ComposerZaki Ahmad
ProducerPeace Studio
LabelNasheed Club
Story & Cultural Context
An emotional Urdu kalaam performed by Zaki Ahmad, reflecting on the struggles of life, spiritual longing, and seeking solace in faith. Released by Peace Studio and Nasheed Club, it gained popularity…
Titles in Other Languages
EnglishDo Not Ask the Story of Life
Lyrics
نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے عزیزوں جس تجو بے فائدہ بچار اگر کی ہے یہ ہے دردِ محبت چھوٹ یہ قلب و نظر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے انہیں بھی دیکھ جن کی عمر گزری ہے سو لگنے میں تیری تکلیف تو اے شمع سوزارت بھڑ کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے یہاں بیتاب ہے دل اُس طرف کا کل پریشاہ ہے جو عالم اس طرف کا ہے وہی حالت ادھر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے نہیں آسان ہر خواہش غمِ جانا پہ تج دینا مگر میرے دل پر نم نے یہ منزل بھی سر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے تمناں ہے لاکھوں کم ہے لیکن فرصتِ ہستی اقامت کے ارادے ہیں مگر حالت سفر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے کسی سے کیا کہیں قلب و جگر میں زخم کتنے ہیں ہمیں ہی کچھ خبر ہے جو بھی حالت اپنے گھر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے عجب کیا شانِ رحمت ڈھاپ لے میرے گناہوں کو خطا کی ہے مگر ان کی عطا کو دیکھ کر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے سبک ساراں ساحل کیا ڈراتے ہیں مجھے کیفیر میں توفاں میں پلاہوم ر موجوں میں بسر کی ہے دلِ مزتر نے مرنے کی تمناں ربه کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے نہ پوچھو داستانِ زیست ہم نے کیسے سر کی ہے