Skip to main content
Hai Ajeeb Sheher Ki Zindagi cover art

Hai Ajeeb Sheher Ki Zindagi

by Zaki Ahmad

Album: Nasheeds

Duration: 5:47

Genre: nasheedYear: 2023Type: nasheedComposer: Zaki Ahmad

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed reflecting on the chaotic, restless, and artificial nature of modern city life, emphasizing the search for spiritual peace and contentment away from materialistic distractions.

← Browse
Hai Ajeeb Sheher Ki Zindagi

Hai Ajeeb Sheher Ki Zindagi

Nasheeds 5:47 2023
AI-Enriched80%
Genre
Instruments
vocal-only

Credits

ComposerZaki Ahmad
ProducerPeace Studio
LabelNasheed Club

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed reflecting on the chaotic, restless, and artificial nature of modern city life, emphasizing the search for spiritual peace and contentment away from materialistic…

Titles in Other Languages

EnglishThe Life of This Strange City

Lyrics

ہے عجیب شہر کی زندگی ہے عجیب شہر کی زندگی
ہے عجیب شہر کی زندگی ہے عجیب شہر کی زندگی
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
یوں ہی روز ملنے کی عارضو بڑی رکھ رکھاؤں کی گفتگو
یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
کہاں بدعاوں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں
یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاؤں گا
اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر
کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
کوئی نغم دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغم شام کی چھاؤں سا
ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے