
Genre: nasheedYear: 2023Type: nasheedComposer: Zaki Ahmad
Story & Cultural Context
An emotional Urdu nasheed reflecting on the chaotic, restless, and artificial nature of modern city life, emphasizing the search for spiritual peace and contentment away from materialistic distractions.
← Browse

AI-Enriched80%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
ComposerZaki Ahmad
ProducerPeace Studio
LabelNasheed Club
Story & Cultural Context
An emotional Urdu nasheed reflecting on the chaotic, restless, and artificial nature of modern city life, emphasizing the search for spiritual peace and contentment away from materialistic…
Titles in Other Languages
EnglishThe Life of This Strange City
Lyrics
ہے عجیب شہر کی زندگی ہے عجیب شہر کی زندگی ہے عجیب شہر کی زندگی ہے عجیب شہر کی زندگی ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے یوں ہی روز ملنے کی عارضو بڑی رکھ رکھاؤں کی گفتگو یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے کہاں بدعاوں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاؤں گا اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے کوئی نغم دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغم شام کی چھاؤں سا ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر یہاں نہ قیام ہے کہیں کاروبار سی دو پہر کہیں بدمزاج سی شام ہے