
Genre: naat, nasheedYear: 2023Type: nasheed
Story & Cultural Context
A soulful Urdu Naat Sharif performed by Zaki Ahmad, expressing deep devotion and yearning while standing before the Roza (the resting place of the Prophet Muhammad). The lyrics are based on the classic spiritual poetry 'Be Khud Khara Hun Roze Ke Samne'.
← Browse

AI-Enriched70%
Credits
LyricistMuzaffar Warsi
LabelWithout label
Story & Cultural Context
A soulful Urdu Naat Sharif performed by Zaki Ahmad, expressing deep devotion and yearning while standing before the Roza (the resting place of the Prophet Muhammad). The lyrics are based on the…
Titles in Other Languages
EnglishStanding Lost in Devotion Before the Prophet's Grave
Lyrics
میں چھپ کھڑا ہوا ہوں دربار مصطفیٰ میں آنکھوں سے بولتا ہوں دربار مصطفیٰ میں دربار مصطفیٰ میں بے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے دے بات کھا دے مولا دے بات کھا دے مولا تھا میرے تشنگی کو قیامت کا سامنا اب خواب ہے ساقی کوثر کے سامنے بے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے میں چھپ کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے دل میں جمع ہوئے تھے بہت منظری جمال دندلا گئے ہیں گمبدِ اخزر کے سامنے دے بات کھا دے مولا دے بات کھا دے مولا دے بات کھا دے مولا دے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے حیران ہے آنکھ عالمِ انوار دیکھ کر ایک تشنہ لب کھڑا ہے سمندر کے سامنے ایک تشنہ لب کھڑا ہے سمندر کے سامنے بے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے بے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے ہوشِ مسار نامِ آمال دیکھ کر سکھ جہا جاؤں شافیِ محشر کے سامنے میں چھپ کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے بے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے پیشِ نظر ہے جلوہِ فردوس کی بہار گھر سے قریب آپ کے منبر کے سامنے دے باہ دکھا دے مولا دے باہ دکھا دے مولا دے باہ دکھا دے مولا بے خود کھڑا ہوں روزہ اثر کے سامنے سر یاحے آفتابِ منبر کے سامنے میں چھپ کھڑا ہوا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں آنکھوں سے بولتا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں دربارِ مصطفیٰ میں