
Genre: nasheed, ghazalYear: 2023Type: nasheedComposer: Zaki Ahmad
Story & Cultural Context
A soulful Urdu spiritual ghazal expressing themes of loyalty, devotion, and deep remembrance of the Divine and the Prophet, popularized on the Nasheed Club platform.
← Browse

AI-Enriched80%
Credits
ComposerZaki Ahmad
ProducerNasheed Club
LabelNasheed Club
Story & Cultural Context
A soulful Urdu spiritual ghazal expressing themes of loyalty, devotion, and deep remembrance of the Divine and the Prophet, popularized on the Nasheed Club platform.
Titles in Other Languages
EnglishThe Rule of Loyalty
Lyrics
کی یاد وہ بےہساب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے فزا میں گھنگور سی گھٹا ہے نظر میں دھندلی سی رات چھائی فزا میں گھنگور سی گھٹا ہے نظر میں دھندلی سی رات چھائی چمنہ کچھ ستاراں سے برسیں ہر لبوں میں شراب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے یہ کیسا دستور ہے وفا کا یہ پارسائی کا عجر کیسا یہ کیسا دستور ہے وفا کا یہ پارسائی کا عجر کیسا جو تھے وفادار بندگی میں انی کے حق میں اوقاب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے ہے کون پرسند حال اپنا کسے بتائیں ملال اپنا ہے کون پرسند حال اپنا کسے بتائیں ملال اپنا لبوں پہ ایسا سکوت چھایا کی ہر طرف سے جواب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے رہے محبت کے تشنہ لب ہے دراز رستہ ہے دور منزل رہے محبت کے تشنہ لب ہے دراز رستہ ہے دور منزل یہ تشنگی تو اوڑوج پر ہے خیال میں بھی سراب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے نا عرضو ہم کو سے مزر کی نا ہے تمنا اے ہور و غلما نا عرضو ہم کو سے مزر کی نا ہے تمنا اے ہور و غلما نتیجہ عشق بس ہمارا جہاں بھی ہو کامیاب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے ہماری نادانیوں پے تائر بھی خوب اب دل لگی کریں گے ہماری نادانیوں پے تائر بھی خوب اب دل لگی کریں گے قفس کو ہم آشیہ جو سمجھے نا جانے کیوں ایسے خواب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے کبھی مسرک کبھی اداسی کبھی اسیری کبھی رہائی کبھی مسرک کبھی اداسی کبھی اسیری کبھی رہائی عجیب یہ کیفیت ہے سالک سکون میں بھی عذاب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ سرد موسم یہ کوئے جانا کی یاد وہ بےہساب آئے یہ بری بارہ بہارِ افشا چمن میں ہر سو گلاب آئے یہ یاد وہ بےہساب آئے