
Genre: nasheed, ghazal, kalamYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
An emotional Urdu Ghazal (Kalam) performed by Zaki Ahmad, exploring themes of loyalty, devotion, and spiritual longing, released on the Nasheed Club platform.
← Browse

AI-Enriched80%
Credits
ProducerNasheed Club
LabelNasheed Club
Story & Cultural Context
An emotional Urdu Ghazal (Kalam) performed by Zaki Ahmad, exploring themes of loyalty, devotion, and spiritual longing, released on the Nasheed Club platform.
Titles in Other Languages
EnglishThe Atonement of Loyalties
Lyrics
بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا وفاوں کا ہماری وہ کفارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا کڑی منزل میں جس نے راستہ بدلا سہر اس کا سفینہ میرے ساحل کا کنارہ ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا وفاوں کا ہماری وہ کفارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا محبت میں دیوانوں نے گواں ڈالا سبھی لیکن لباسِ زیست جس نے بھی اتارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا وفاوں کا ہماری وہ کفارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا چلے جاؤں وہاں واپس تمہاری عرضوں میں ہے وہ رستے میں تمہیں جس نے پکارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا وفاوں کا ہماری وہ کفارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا بھری محفل میں کوئی منتظر بیٹھا ہوا ہو گا سبھی چہروں کو رد کر کے تمہارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا یہ نقش پا پلٹنے پر سہر سارے مٹا دینا کہیں آ جائے نا پیچھے دوبارہ ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا وفا کا ہماری ہو کفارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا وفا کا ہماری ہو کفارا ڈھونڈتا ہو گا بچھڑ کر ہم سے اب کوئی سہارا ڈھونڈتا ہو گا