Skip to main content
Wo Shehr e Mohabbat cover art

Wo Shehr e Mohabbat

by Zaki Ahmad

Album: Nasheeds

Duration: 8:41

Genre: nasheed, naatYear: 2024Type: nasheed

Story & Cultural Context

A beautiful Urdu Naat expressing deep spiritual longing and love for the city of Madinah, the resting place of the Prophet Muhammad. This rendition by Zaki Ahmad is performed in a traditional, heart-touching vocal style popular in South Asian Islamic devotion.

← Browse
Wo Shehr e Mohabbat

Wo Shehr e Mohabbat

Nasheeds 8:41 2024
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-only

Credits

LyricistMuzaffar Warsi
ProducerNasheed Club
LabelNasheed Club

Story & Cultural Context

A beautiful Urdu Naat expressing deep spiritual longing and love for the city of Madinah, the resting place of the Prophet Muhammad. This rendition by Zaki Ahmad is performed in a traditional,…

Titles in Other Languages

العربيةمدينة المحبة
EnglishThe City of Love

Lyrics

صلِّ على نبینا صلِّ على محمد وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے وہ سونے سے کنکر وہ چاندی سے مٹی نظر میں بسانے کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے جو پوچھا نبی نے کہ کچھ گھر بھی چھوڑا تو صدیق اکبر کے ہوتوں پہ آیا جو پوچھا نبی نے کہ کچھ گھر بھی چھوڑا تو صدیق اکبر کے ہوتوں پہ آیا وہاں مال و دولت کی کیا ہے حقیقت جہاں جا لٹانے کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے جہادِ محبت کی آواز گونجی کہاں حنزلہ نے یہ دلہن سے اپنی جہادِ محبت کی آواز گونجی کہاں حنزلہ نے یہ دلہن سے اپنی اجازت اگر دو تو جامِ شہادت لبو سے لگانے کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے وہ ننہ سا اصغرؑ وہ ایڑی رگڑ کر یہی کہہ رہا تھا وہ خیمے میں رو کر وہ ننہ سا اصغرؑ وہ ایڑی رگڑ کر یہی کہہ رہا تھا وہ خیمے میں رو کر اے بابا میں پانی کا پیاسا نہیں ہوں میرا سر کٹانی کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے وہ سونے سے کن کر وہ چاندی سے مٹی نظر میں بسانے کو دل چاہتا ہے ستاروں سے چاند کہتا ہے ہر دم تمہیں کیا بتاؤں وہ ٹکڑوں کا عالم ستاروں سے چاند کہتا ہے ہر دم تمہیں کیا بتاؤں وہ ٹکڑوں کا عالم اشارے میں آقا کہ اتنا مزہ تھا کہ پھر ٹوٹ جانی کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے جو دیکھا ہے روح جمال رسالت تو تاہر عمر مصطفیٰ سے یہ بولے جو دیکھا ہے روح جمال رسالت تو تاہر عمر مصطفیٰ سے یہ بولے مجھے آپ سے دشمنی تھی مگر اب غلامی میں آنے کو دل چاہتا ہے وہ شہرِ محبت جہاں مصطفیٰ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے وہ سونے سے کنکر وہ چاندی سے مٹی نظر میں بسانے کو دل چاہتا ہے