Skip to main content
Nannay Farishte Gaza K cover art

Nannay Farishte Gaza K

by Zaki Ahmad

Album: Nasheeds

Duration: 8:08

Maqam: SabaGenre: nasheed, munshidYear: 2023Type: nasheedComposer: Zaki Ahmad

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed dedicated to the children ('Nannay Farishte') of Gaza, expressing grief and solidarity with the victims of the Palestine conflict.

← Browse
Nannay Farishte Gaza K

Nannay Farishte Gaza K

Nasheeds 8:08 2023
AI-Enriched80%
MaqamSaba
Instruments
vocal-only

Credits

ComposerZaki Ahmad
LyricistZaki Ahmad
LabelWithout label

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed dedicated to the children ('Nannay Farishte') of Gaza, expressing grief and solidarity with the victims of the Palestine conflict.

Titles in Other Languages

EnglishLittle Angels of Gaza

Lyrics

رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے پانی بھی میسر نہیں ان کو مشروب مگر تم پیتے ہو تم اندہ لذیذ غزائیں بھی تیار سے حرمے کرتے ہو تمہیں کیسے حضم وہ ہوتا ہے غزا کے باسی بھوکے ہیں غزا کے گھروں میں روٹی کا ایک ٹکڑا نہیں اب ملتا ہے رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے دنیا کے مسلمان کب تک یوں خاموش تماشا دیکھیں گے غزا کے تباہی پر کب تک وہ آنکھ کو مون دے بیٹھیں گے وہ پیٹ پہ پتھر باندھ کے اب سنت کی ادائی کرتے ہیں تم مست رہو دنیا میں مگن وہ نوش شہادت پیتے ہیں رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے بیٹھے ہیں تمہارے سینوں میں لگتا ہی نہیں کہ دل ہے وہ ایمان کا سوڑا گر ٹھہرے کیوں موہ کو چھپائے پھرتے ہو امید بھی کیا رکھے ان سے اس قابل تو وہ ہے ہی نہیں تم گونگے بھی ہو اور بہرے بھی ہو جوئی بھی کان میں رینگتی ہے رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے وہی کیف ہواوں میں وا کی بارود مہکتی رہتی ہے معصوم سے بچے ماںوں کی بےہسی پہ موت بھی روتی ہے اے قوم مسلمہ جوش میں آ بیدار تو اب ہی ہو جاؤ میدان حشر میں آقا کو موہ کیسے دکھاؤ گے بتلاؤ رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے رمضان گزارتے ہیں کیسے وہ ننھے فرشتے غنصا کے کیا بیتتی ہیں ان پر سوچو وہ رکھتے ہیں کس طرح روزے وہ لوگ صوم بت قید میں ہیں تم لوگ مزے سے جیتے ہو وہ روز تڑپ کے مرتے ہیں تم راحت نید میں سوتے ہو وہ ظلم ستم کی زد میں ہیں تم چین و سکون سے رہتے ہو سینے پہ وہ گولی کھاتے ہیں تم خواب خرگوش میں کھوئے ہو