Skip to main content
Phir Paish Nazar Gumbad e Khazra e Haram Hai cover art

Phir Paish Nazar Gumbad e Khazra e Haram Hai

by Zaki Ahmad

Album: Nasheeds

Duration: 8:17

Genre: naat, nasheedYear: 2024Type: nasheedComposer: Traditional

Story & Cultural Context

A soulful Urdu Naat expressing deep spiritual longing and devotion towards the Prophet Muhammad and the Green Dome (Gumbad-e-Khazra) in Medina. It is performed as a collaborative recitation by Hassan Anzar and Zaki Ahmad.

← Browse
Phir Paish Nazar Gumbad e Khazra e Haram Hai

Phir Paish Nazar Gumbad e Khazra e Haram Hai

Nasheeds 8:17 2024
AI-Enriched80%
Instruments
vocal-only

Credits

ComposerTraditional
LyricistIqbal Azeem
LabelWithout label

Story & Cultural Context

A soulful Urdu Naat expressing deep spiritual longing and devotion towards the Prophet Muhammad and the Green Dome (Gumbad-e-Khazra) in Medina. It is performed as a collaborative recitation by Hassan…

Titles in Other Languages

EnglishThe Green Dome of the Sanctuary is Before My Eyes Again

Lyrics

میرے نبی پیارے نبی میرے نبی پیارے نبی میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے پھر شکر خدا سامنے محراب نبی ہے پھر شکر خدا سامنے محراب نبی ہے پھر سر ہے میرا اور تیرا نقش قدم ہے آقا میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے محراب نبی ہے کوئی تورت جلی دل شوق سے لبریز ہے اور آنکھ بھی نم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے پھر منتِ دربان کا عزاز ملا ہے اب ڈر ہے کسی کا نہ کسی چیز کا غم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے پھر بارگاہ سیدہ کونن میں پہچا یہ ان کا کرم ان کا کرم ان کا کرم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے یہ ذر آئے نا چیز ہے خرشید بداما دیکھو ان کے غلاموں کا بھی کیا جا ہو ہشم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے وہ رحمتِ عالم ہے شہرِ اسود و احمر وہ رحمتِ عالم ہے شہرِ اسود و احمر وہ سیدہ کونن ہے آقا ہم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے وہ عالمِ توحید کا مظہر ہے کہ جسمِ مشرق ہے نہ مغرب ہے عرب ہے نہ جم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے دل نہ تے رسولِ عربی کہنے کو بے چین عالم ہے تحیر کا زباہ ہے نہ قلم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے میرے پیش نظر گمبت خزرا ہے حرم ہے میرے نام خدا روزہ جنت میں قدم ہے