
Genre: nasheed, naatYear: 2024Type: nasheedComposer: Muzaffar Warsi
Story & Cultural Context
A deeply emotional Urdu Naat originally written, composed, and recited by the legendary Pakistani poet Muzaffar Warsi. It expresses profound love and spiritual devotion to the Prophet Muhammad, articulating that even though the believer has not seen him physically, his presence is felt in the…
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerMuzaffar Warsi
LyricistMuzaffar Warsi
LabelWithout label
Story & Cultural Context
A deeply emotional Urdu Naat originally written, composed, and recited by the legendary Pakistani poet Muzaffar Warsi. It expresses profound love and spiritual devotion to the Prophet Muhammad,…
Titles in Other Languages
EnglishWe Have Not Seen Him With Our Eyes, But
Lyrics
ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے جس نے لاکر کلامِ الٰہی دیا وہ محمد مدینے میں موجود ہے پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صلی اللہ جھوم کر کہہ رہی ہے یہ بادِ سبا ایسی خوشبو چمن کے گلو میں کہاں جو نبی کے پسینے میں موجود ہے ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے ہم نے مانا کہ جنت بہت ہے حسین چھوڑ کر ہم مدینہ نہ جائیں کہیں یوں تو جنت میں سب ہے مدینہ نہیں اور جنت مدینے میں موجود ہے ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے چھوڑنا تیرا طیبہ گوارہ نہیں سارے عالم میں ایسا نظارہ نہیں ایسا منظر زمانے نے دیکھا نہیں جیسا منظر مدینے میں موجود ہے ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے وہ ابو بکر فاروق سمالی ہے یہ سب ان کے دینِ مبی کے فقی وہ فقی ہو کے افضل شہہِ انبیاء وہ شہنشاہ مدینے میں موجود ہے ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے بے سہاروں کو سینے سے لپٹا لیا جس نے جو مانگا اس کو عطا کر دیا وہ فقیروں کے یاور شہہِ انبیاء وہ شہنشاہ مدینے میں موجود ہے ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے جب تیرا تذکرہ ان کی رخ سار کا وہ دوہا پڑھ لیا والکمر کہہ دیا سورتوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی نات بھی ہو گئی بات بھی بن گئی ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے یہ تو مانا کہ جنت بہت ہے حسین خوبصورت ہے سب خلد کی سرزمی حسنِ جنت کو پھر جب سمیٹا گیا سروری امبیاء کی گلی بن گئی ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے سب سے ظائل زمانے میں معذول تھا سب سے بے قص تھا بے بس تھا مجبور تھا ان کو رحمہ گیا میرے حالات پر میری عظمت میری بے بسی بن گئی ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کی موتیوں کی لڑی بن گئی آیتوں سے ملاتا رہا آیتی پھر جب دیکھا تو نات نبی بن گئی ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے جو بھی آنسو بہے میرے محبوب کے سب کے سب اب رحمت کے چھینٹے بنے ٹھا گئی رات جب ذلف لہر آ گئی جب تبسم کیا چاندنی بن گئی ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے جس نے لا کر کلامِ الٰہی دیا وہ محمد مدینے میں موجود ہے وہ محمد مدینے میں موجود ہے وہ محمد مدینے میں موجود ہے