Skip to main content
Jaga Jee Lagane Ki Dunya Nahi Hai cover art

Jaga Jee Lagane Ki Dunya Nahi Hai

by Mahmud Huzaifa

Album: Nasheeds

Duration: 6:18

Genre: nasheed, ghazalYear: 2023Type: nasheedComposer: Traditional

Story & Cultural Context

A famous Urdu moral and spiritual poem written by Khwaja Azizul Hasan Ghouri, emphasizing the transience of worldly life. It is rendered in a soulful, vocal-only style by Bangladeshi nasheed artist Mahmud Huzaifa.

← Browse
Jaga Jee Lagane Ki Dunya Nahi Hai

Jaga Jee Lagane Ki Dunya Nahi Hai

Nasheeds 6:18 2023
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

ComposerTraditional
LyricistKhwaja Azizul Hasan Ghouri
LabelWithout label

Story & Cultural Context

A famous Urdu moral and spiritual poem written by Khwaja Azizul Hasan Ghouri, emphasizing the transience of worldly life. It is rendered in a soulful, vocal-only style by Bangladeshi nasheed artist…

Titles in Other Languages

EnglishThis World Is Not a Place to Attach Your Heart

Lyrics

جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے عجل ہی نے چھوڑا نہ کسرا نہ دارا اسی سے سکندر صفاتیں بھی ہارا پڑا رہ گیا سب یوں ہی تھاٹھ سارا ہر اک لیک کیا کیا نہ حسرت سے دھارا جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے ملے خاک میں اہل شاک کیسے کیسے مکی ہو گئے لا مکا کیسے کیسے ملے خاک میں اہل شاک کیسے کیسے مکی ہو گئے لا مکا کیسے کیسے ہوئے نامر بے نشاں کیسے کیسے زمین کھا گئی نو جوان کیسے کیسے جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا جوانی میں پھر تجھ کو مجنو بنایا تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا جوانی میں پھر تجھ کو مجنو بنایا بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا عجل تیرہ کر دیگی بالکل صفایا جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے یہی تجھے کو دھن ہے رہوں سب سے بالا ہو زینت نرانی ہو فیشن نرالا یہی تجھے کو دھن ہے رہوں سب سے بالا ہو زینت نرانی ہو فیشن نرالا دیا کرتا ہے کیا یوں ہی مرنے والا تجھے حسن ظاہر نے دھوکے میں ڈالا جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے وہ ہے یش و عشرت کا کوئی محل بھی جہاں ساتھ میں کھڑی ہو عجل بھی وہ ہے یش و عشرت کا کوئی محل بھی جہاں ساتھ میں کھڑی ہو عجل بھی بس اس جہالت سے اب تو نکل بھی یہ طرز معیشت اب اپنا بدل بھی جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے یہ دنیا یہ فانی ہے محبوب تجھ کو ہوئی وہاں کیا چیز مرغوب تجھ کو یہ دنیا یہ فانی ہے محبوب تجھ کو ہوئی وہاں کیا چیز مرغوب تجھ کو نہیں عقل اتنی بھی مجذوب تجھ کو سمجھ لے نہ چاہی اب خوب تجھ کو جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے جگا جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جاں ہے تماشا نہیں ہے