Skip to main content
Dunya Ke Aye Musafir cover art

Dunya Ke Aye Musafir

by Mahmud Huzaifa

Album: Nasheeds

Duration: 4:23

Genre: nasheed, munshidYear: 2022Type: nasheed

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed performed by Bangladeshi artist Mahmud Huzaifa. The lyrics remind listeners of the transient nature of worldly life ('Dunya') and the inevitable journey of the soul to the afterlife.

← Browse
Dunya Ke Aye Musafir

Dunya Ke Aye Musafir

Nasheeds 4:23 2022
AI-Enriched75%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed performed by Bangladeshi artist Mahmud Huzaifa. The lyrics remind listeners of the transient nature of worldly life ('Dunya') and the inevitable journey of the soul to the…

Titles in Other Languages

EnglishO Traveler of the World

Lyrics

دنیا کے اے مسافر دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے تیہ کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے دنیا کے اے مسافر جب سے بنی ہے دنیا لاکھوں کروڑوں آئے باقی رہا نہ کوئی میدھی میں سب سمائے اس بات کو نہ بھولو سب کا یہی حشر ہے دنیا کے اے مسافر یہ عالی شان بنگلے کسی کام کے نہیں ہے مخمل میں سونے والے میدھی میں سو رہے ہیں دو گس بھی کا ٹکڑا چھوٹا سا تیرا گھر ہے دنیا کے اے مسافر آنکھوں سے تو نے اپنے دیکھی کئی جنازے ہاتھوں سے تو نے اپنے تفنائے کتنے مردیں انجام سے تو اپنے کیوں اتنا بے خبر ہے دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے تیہ کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے دنیا کے اے مسافر جب سے بنی ہے دنیا لاکھوں کروڑوں آئے باقی رہا نہ کوئی میدھی میں سب سمائے اس بات کو نہ بھولو سب کا یہی حشر ہے دنیا کے اے مسافر یہ عالی شان بنگلے کسی کام کے نہیں ہے مخمل میں سونے والے میدھی میں سو رہے ہیں دو گزمی کا ٹکڑا چھوٹا سا تیرا گھر ہے دنیا کے اے مسافر آنکھوں سے تو نے اپنے دیکھی کئی جنازے ہاتھوں سے تو نے اپنے تفنائے کتنے مردیں انجام سے تو اپنے کیوں اتنا بے خبر ہے دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے تیہ کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے دنیا کے اے مسافر دنیا کے اے مسافر دنیا کے اے مسافر