
Genre: nasheed, hamd, munshidYear: 2025Type: nasheedComposer: Mahmud Huzaifa
Story & Cultural Context
A deeply spiritual Bengali nasheed exploring the theme of 'Tajalli' (Divine Manifestation). The track focuses on the spiritual light of Allah, seeking divine closeness and reflecting on the beauty of Islamic spirituality through rich vocal-only harmonies.
← Browse

AI-Enriched80%
Credits
ComposerMahmud Huzaifa
LyricistMahmud Huzaifa
ProducerMahmud Huzaifa
LabelWithout label
Story & Cultural Context
A deeply spiritual Bengali nasheed exploring the theme of 'Tajalli' (Divine Manifestation). The track focuses on the spiritual light of Allah, seeking divine closeness and reflecting on the beauty of…
Titles in Other Languages
العربيةتجلي
EnglishTajalli (Divine Manifestation)
Lyrics
میں ہر ہستی پاک تینات کے صدقے آنکھوں میں ڈولے تھے مزاغ والے وہ ہنٹوں پہ الفاظ الہ والے وہ خم دان باریک عبرو مبارک وہ جنت سے بھی قیمتی مو مبارک وہ بیداغ بے عبرک سان ان کے علوم پہ فروزہ تھے انوار ان کے وہ بولے تو پھولوں کو مسکان بخشے وہ دیکھے تو فطرت کو ایمان بخشے وہ عابدہ ہن تھا کہ آبِ شفا تھا دہن میں خدا جانے کیا ذائقہ تھا کشادہ پوران وار پیشانی ان کے نہایت چمکدار پیشانی ان کی نگاہوں میں عفت کی شمگی فروزہ جبین پر نبوت کے کرنی فروزہ بہت ہی مثالی تھی ذلف نبی کی ذرا خمریالی تھی ذلف نبی کی وہ پھولوں سے بڑھ کر ملائم تھا لہجہ ہمیشہ صداقت پہ قائم تھا لہجہ وہ باقی دا ساحل سے مٹانے گئے تھے وہ کتنی محبت سے پانے گئے تھے کبھی جو محبت سے وہ دیکھتے تھے تو کتنی مروعوت سے وہ دیکھتے تھے وہ ہوتانج سے سے وہ چلتے زمین پر مگر ان کا چنچا تھا عرش بنی پر وہ کم گو تھے بات ان کی لیکن وہ کمل وہ عیسیٰ تھے ذات ان کی لیکن وہ کمل انہیں زندگی کا خرینا ملا تھا انہیں پیارا مکہ مدینہ ملا تھا وہ جب مسکراتے تو سب مسکراتے صحابہ انہی کے سبب مسکراتے ہیں وہی جو انسان کے صورت میں چمکی وہ صورت کے قرآن کے صورت میں چمکی وہ چہرہ تھا ان کا کہ نور جلی تھا وہ جس میں معتر بھی کیا سندلی تھا وہ ہاتھوں میں ڈولے تھے مزاگ والے وہ ہنٹوں پہ الفاظ الہ والے وہ خم دان باریک عبرو مبارک وہ جنت سے بھی قیمتی مو مبارک وہ بیداغ بے عبر وکسان ان کے علوم پہ فروزہ تھے انوار ان کے وہ بولے تو پھولوں کو مسکان بخشے وہ دیکھے تو فطرت کو ایمان بخشے وہ عابدہ ہن تھا کہ آب شفا تھا دہن میں خدا جانے کیا ذائقہ تھا کشادہ پوران وار پیشانی ان کے نہایت چمکدار پیشانی ان کی نگاہوں میں عفت کی شمگی فروزہ جبین پر نبوت کے کرنی فروزہ بہت ہی مثالی تھی ذنف نبی کی ذرا خمریالی تھی ذنف نبی کی وہ پھولوں سے بڑھ کر ملائم تھا لہجہ ہمیشہ صداقت پہ قائم تھا لہجہ وہ باقی دا سارے سے مٹانے گئے تھے وہ کتنی محبت سے پانے گئے تھے کبھی جو محبت سے وہ دیکھتے تھے تو کتنی مروعوت سے وہ دیکھتے تھے وہ ہوتانج سے سے وہ چلتے زمین پر مگر ان کا چنچا تھا عرش بنی پر وہ کم گو تھے بات ان کی لیکن وہ کمل وہ عیسیٰ تھے ذات ان کی لیکن وہ کمل انہیں زندگی کا خرینا ملا تھا انہیں پیارا مکہ مدینہ ملا تھا وہ جب مسکراتے تو سب مسکراتے صحابہ انہی کے سبب مسکراتے ہیں وہی جو انسان کے صورت میں چمکی وہ صورت کے کوران کے صورت میں چمکی وہ چہرہ تھا ان کا کہ نور جلی تھا وہ جسم مگوہاں تر بھی کیا سندلی تھا وہ ہاتھوں میں ڈولے تھے مزاگ والے وہ ہنٹوں پہ الفاظ الہ والے وہ خم دان باریک عبرو مبارک وہ جنت سے بھی قیمتی مو مبارک وہ بیداغ بے عبرک سان ان کے علوم پہ فروزہ تھے انوار ان کے وہ بولے تو پھولوں کو مسکان بخشے وہ دیکھے تو فطرت کو ایمان بخشے وہ عابدہ ہن تھا کہ آب شفا تھا دہن میں خدا جانے کیا ذائقہ تھا کشادہ پوران وار پیشانی ان کے نہایت چمکدار پیشانی ان کی نگاہوں میں عفت کی شمگی فروزہ جبین پر نبوت کے کرنی فروزہ بہت ہی مثالی تھی ذنف نبی کی ذرا خمریالی تھی ذنف نبی کی وہ پھولوں سے بڑھ کر ملائم تھا لہجہ ہمیشہ صداقت پہ قائم تھا لہجہ وہ باقی دا سارے سے مٹانے گئے تھے وہ کتنی محبت سے پانے گئے تھے کبھی جو محبت سے وہ دیکھتے تھے تو کتنی مروعوت سے وہ دیکھتے تھے وہ ہوتانج سے سے وہ چلتے زمین پر مگر ان کا چنچا تھا عرش بنی پر وہ کم ہو تھے بات ان کی لیکن وہ کمل وہ عیسیٰ تھے ذات ان کی لیکن وہ کمل انہیں زندگی کا خرینا ملا تھا انہیں پیارا مکہ مدینہ ملا تھا وہ جب مسکراتے تو سب مسکراتے صحابہ انہی کے سبب مسکراتے وہی جو انسان کے صورت میں چمکی وہ صورت کے قرآن کے صورت میں چمکی وہ چہرہ تھا ان کا کہ نور جلی تھا وہ جس میں معتر بھی کیا سندلی تھا وہ چہرہ تھا ان کا کہ نور جلی تھا وہ جس میں معتر بھی کیا سندلی تھا دانے بنائیا تو ایسا بنائیا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ان کو سجائیا حلیجہ کے شوہر وہ معصوم گوھر میں نوکرزہ تھا ان کے بچوں کا نوکر ہے قربان عفت ذراعوں پہ جاؤں میں قربان عمت کی ماہوں پہ جاؤں جو قربانیاں کھا کتابیں رہی تھی جو پکھنوں روفاقیں پہ کھانے رہی تھی میں آقا کی چاہت محبت کے صدقے میں ہر ہستی پاک تینات کے صدقے