
Maqam: HijazGenre: nasheed, naat, munshidYear: 2024Type: nasheedComposer: Mazharul Islam
Story & Cultural Context
A soulful Bengali Naat expressing deep longing to visit the Green Dome (Roza e Pak) of Prophet Muhammad (PBUH) in Medina. The track is part of Mazharul Islam's 2024-2026 collection of spiritual singles focusing on traditional melodic structures.
← Browse

About this recordingAuto-generated
MaqamHijaz
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Instruments
percussion
Credits
ComposerMazharul Islam
LyricistTraditional / Folk
ArrangementMazharul Islam
ProducerMazharul Islam Studio
LabelIndependent
Story & Cultural Context
A soulful Bengali Naat expressing deep longing to visit the Green Dome (Roza e Pak) of Prophet Muhammad (PBUH) in Medina. The track is part of Mazharul Islam's 2024-2026 collection of spiritual…
Titles in Other Languages
العربيةجهان روضة باك
EnglishWhere the Holy Shrine Is
Lyrics
جہاں روزیں پاکے خیر البرا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے محمد کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحبِ قابا کون سے نٹھے رہے بشر کی سرِ عرش محمان نوازی یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزیں پاکے خیر البرا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جو آسی کو دامن میں اپنے چھپا لے جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے اسے اور کیا نام دے گا زمانہ وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزیں پاکے خیر البرا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے قیامت کا ہے کے دن مؤین ہے لیکن ہمارے لیے ہر نفس ہے قیامت مدینے سے ہم جان نصاروں کی دوری قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزیں پاکے خیر البرا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے تم اقبال یہ نات کہتو رہے ہو مگر اے بھی سوچا کہ کیا کہہ رہے ہو کہاں تم کہاں مدحے مندوں ہے ازداں یہ جررت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزیں پاکے خیر البرا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینے کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزیں پاکے خیر البرا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے