
Maqam: SabaGenre: nasheed, munshid, naat, spiritualYear: 2024Type: nasheedComposer: Mazharul Islam
Story & Cultural Context
A soulful Urdu-language nasheed (despite the user's Bengali tag) that focuses on themes of repentance, longing, and spiritual solitude. It gained popularity for its minimalist vocal-heavy arrangement and emotional delivery.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerMazharul Islam
LyricistTraditional / Folk
ArrangementMazharul Islam
ProducerMazharul Islam Official
LabelWithout label
Story & Cultural Context
A soulful Urdu-language nasheed (despite the user's Bengali tag) that focuses on themes of repentance, longing, and spiritual solitude. It gained popularity for its minimalist vocal-heavy arrangement…
Titles in Other Languages
EnglishDon't Come to Mind Now, Let It Be
Lyrics
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو یہ سچ کی سہانے ماضی کے لمحوں کو بھولانا کھیل نہیں یہ سچ کی بھڑکتے شولوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیں رستے ہوئے دن کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں اور آکے نظر سے جلبوں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں لیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو جو آگ دبی ہے سینے میں ہوتوں پہ نہ لاؤ رہنے دو تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو جاری ہے وطن کی راہوں میں ہر سمت لہوں کے فووارے دکھ درد کی چوٹے کھا کھا کر لرزا ہیں دلوں کے گہوارے انگوشت بلب ہے شمس و کمر حیران پریشان ہے تارے ہیں باندسہر کے جھوکے بھی توفان مسلسل کے دھارے اب فرصت نہ ہو نوشکاہ اب یاد نہ آؤ رہنے دو توفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناو رہنے دو تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو مانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھی یہ امن سکون سے دور فضا پیغام سکون بھی لائی تھی وہ دار بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھی خوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھی لیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دو جس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ آٹاؤ رہنے دو تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو اب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریں اب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہوشیار کریں دنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریں جو قوم وطن کے قدموں پر قربانی دے انثار کریں روداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دو جادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دو تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زیمت نہ اٹھاؤ رہنے دو