
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, munshidYear: 2024Type: nasheedComposer: Traditional
Story & Cultural Context
This is a cover of the famous Urdu Naat 'Faslon Ko Takalluf Hai Humse Agar', originally written by the renowned poet Iqbal Azeem. It expresses a deep longing for the city of Medina and the Prophet Muhammad (PBUH), emphasizing that physical distance cannot hinder spiritual connection.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerTraditional
LyricistIqbal Azeem
ProducerMazharul Islam Official
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This is a cover of the famous Urdu Naat 'Faslon Ko Takalluf Hai Humse Agar', originally written by the renowned poet Iqbal Azeem. It expresses a deep longing for the city of Medina and the Prophet…
Titles in Other Languages
EnglishDistances are hesitant between us
Lyrics
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں خود انہیں کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدن بھٹک جائیں گے ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں جیسے ہی سبز گمبد نظر آئے گا بندگی کا قرینا بدل جائے گا جیسے ہی سبز گمبد نظر آئے گا بندگی کا قرینا بدل جائے گا سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہاراں نہیں