
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
Taiba Ke Jaane Wale is a nasheed by Syeda Areeba Fatima that likely praises the city of Taiba (a reference to Medina in Islamic contexts), evoking themes of devotion and pilgrimage. It is part of her singles, reflecting contemporary Islamic music in Urdu, and may inspire spiritual reflection among…
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Instruments
vocal-only
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
Taiba Ke Jaane Wale is a nasheed by Syeda Areeba Fatima that likely praises the city of Taiba (a reference to Medina in Islamic contexts), evoking themes of devotion and pilgrimage. It is part of her…
Titles in Other Languages
EnglishOh Traveler to Taiba
Lyrics
اے گنبد خزرا کے مکین میری مدد کر یا پھرے گی بتا کون میرا تیرے سوا ہے طیبہ کی جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہ عرب سے طیبہ کی جانے والے دہنا کے شاہِ علی ایک رنجو ہم کا مارا دونوں جہاں میں اس کا ہے آپ ہی سہارا حالات پر علم سے ہر دم گزر رہا ہے اور کامتے لبوں سے فریاد کر رہا ہے بارِ گناہ اپنا ہے دوش پر اٹھائی کوئی نہیں ہے ایسا جو پوچھنے کو آئی بھٹکا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈتا ہے تاریقیوں میں ماہی کامل کو ڈھونڈتا ہے سینے میں ہے اندھیرہ دل ہے سیاہ خانہ یہ سب میری حقیقت ہے سرکار کو سنانا کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے سر پر اک عبرِ غم ہے عشقوں سے آنکھ نم ہے معمولی زندگی ہے سرکار عمتی ہوں عمت کے رہنما ہو کچھ ایسے حال سنو فریاد کر رہا ہوں میں دل پہ گار کب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہہ عرب سے پرباگ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہہ عرب سے پرباگ کے جانے والے دہرا رہا ہوں ٹھوکری جہاں میں تم ہی بتا کہ جاؤں بھلا کہاں میں محسوس کر رہا ہوں دنیا ہے ایک دھوکہ مطلب کی آر ہے سب کوئی نہیں کسی کا کس کو میں اپنا جانوں کس کا انگر ہوں سہارا مجھ کو تو میرے آقا ہے آپ کا سہارا تم ہی سنو گے میری تم ہی کرم کرو گے دونوں جہاں میں تم ہی میرا بھرم رکھو گے تم نادخہِ عالم میں ایک نصیب بھرہم تم بے قسوں کے والی میں بے نوہ سوالی تم آسیوں کا یارو میں گردشوں کا مارا رحمت ہو تم سہارا پاؤ میں مرتقِب خاطا کا ہوں شرم سار اپنے آمال کے سبب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہِ عرب سے پرباگ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہِ عرب سے پرباگ کے جانے والے دارِ عظمِ مدینہ جا کے نبی سے کہنا سوزِ غمِ انا سے اب جل رہا ہے سینا کہنا کے دل میں لاکھوں ارماں بھرے ہوئے ہیں کہنا کے حسرتوں کے نشتے چبھے ہوئے ہیں ہے آرزوِ دل کی ان کی مدینہ جاؤں سلطانِ دو جہاں کو سب داغ دے دکھاؤں کاٹوں ہزار چکر ہے باقی ہر گلی کے یوں ہی گزار دوں میں ہیاں مدرگنی کے پھولوں پہ جانے ساروں کاٹوں پہ دل کو واروں سر کو دوں سلامی در کی کروں غلامی دیواروں در کو چوموں قدموں پہ سر کو رکھ دوں محبوب سے لپٹ کر روتا رہوں برابر عالم کے دل میں ہے یہ حسنت نہ جانے کب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہِ عرب سے عرباگ کے جانے والے جا کر بڑے عدب سے میرا بھی قصہِ غم کہنا شہِ عرب سے عرباگ کے جانے والے یا رسول اللہ