Skip to main content
Qaseeda_e_Meraj cover art

Qaseeda_e_Meraj

by Hafiz Tahir Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 9:25

Genre: nasheed, naat, qasida, madihYear: 2017Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri

Story & Cultural Context

This track is a recitation of the famous 'Qaseeda-e-Meraj' written by the 19th-century scholar Imam Ahmed Raza Khan. It poetically describes the night journey and ascension of the Prophet Muhammad (PBUH) to the heavens.

← Browse
Qaseeda_e_Meraj

Qaseeda_e_Meraj

Nasheeds 9:25 2017
AI-Enriched90%
OccasionIsra and Mi'raj
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistImam Ahmed Raza Khan Barelvi
ProducerStudio 5
LabelT.Q Production

Story & Cultural Context

This track is a recitation of the famous 'Qaseeda-e-Meraj' written by the 19th-century scholar Imam Ahmed Raza Khan. It poetically describes the night journey and ascension of the Prophet Muhammad…

Titles in Other Languages

العربيةقصيدة المعراج
EnglishPoem of the Ascension

Lyrics

سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سہر لا مکان سے طلب ہوئی سوئے منتہا وہ چلے نبی کوئی حد ہے ان کے اروج کی بلغل علا بکمالے گی ہے سب سے آلا سب خو نو ملق اور دل ماں ملد سجاتے ہیں ایک دھوم ارش آزم پر مہمان خدا کے آتے ہیں میرے محمد پیارے بنے ہیں دولا دولا میرے محمد پیارے بنے ہیں دولا دولا وہ سرور کشور رسالت جو ارش پر جلوگر ہوئے تھے نئے نرالے طرب کے ساما عرب کے مہمان کے لیے تھے والکبر یہاں زمی میں رجی تھی شادی مچی تھی دھویں ادھر سے انوار ہستے آتے ادھر سے نبوات اٹھ رہتے اتار کر ان کے رخ کا صدقہ وہ نور کا مٹ رہتا بھاڑا اے چاند سورج مچل مچل کر جب ہی کی غیرات مانگتے تھے وہی ہے اب تک چلوک رہا گئے وہی تو جو بن ٹپک رہا گئے وہی تو اب تک چلوک رہا گئے وہی تو جو بن ٹپک رہا گئے وہی تو اب تک چلوک رہا گئے وہی تو جو بن ٹپک رہا گئے نہانے میں جو گرا تا پانی کٹور تاروں نے بھر لیے تھے بجا جو دلوں کو ان کے دوال پناہ ہو جنت کا رنگ و روح جنوں نے دولا کی پائی ادرت وہ بھول گلزار نور کے تھے میرے محمد پیارے بنے ہیں دولا دولا میرے محمد پیارے بنے ہیں دولا دولا قربان کے شان و عظمت پر سوئے ہیں چین سے بستر پر جبریل امی حاضر ہو کر میں راج کا مجدہ سناتے ہیں جبریل بھرا کے سجا کر کے فردوس بری سے لے آئے بارات فرشتوں کی آئی میراج کو دولا جاتے ہیں ہے سب سے آلا سب خو نو ملک اور دل ماں ملد سجاتے ہیں ایک دھوم ارش آزم پر مہمان خدا کے آتے ہیں میرے محمد پیارے بنے ہیں دولا دولا میرے محمد پیارے بنے ہیں دولا دولا دوبار بن کر نسار جاؤں کہاں گزرے گزر کو پاؤں ہمارے دل گوریوں کی آنکھیں ہمارے دل گوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پٹ جگہ لگے تھے بہرگ شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک ملک فلک اپنی اپنی لیں میں یہ گرہ نادر کو بھولتے تھے خوشی کے بادل امڑ کے آئیں دلوں کے تعم سرنگ لائیں وہ نام آئے نات کا زمان تھا حرم کو خود وجد یارے تھے تبارک اللہ ہے شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی کہی تو وہ جو سنن ترانی کہی تقاضے وصال کے تھے منے محمد قریب احمد قریب واسر ور مجد نسار جاؤں یہ کیا ندہ تھی یہ کیا سما تھا یہ کیا مزے تھے ہجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے عجب گھڑی تھی کہ وصل و برکت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے وہی ہے عمل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر اسی کے چہرے اسی سے ملے اسی سے اس کی طرف گئے تھے میرے محمد پیارے بنے ہیں دولہ دولہ حق سام سواری جب پوچھی جبریل نے بڑھ کے کہی تکبیر نبیوں کی امامت اب بڑھ کر سلطان جہا فرماتے ہیں وہ کیسا حسین منظر ہوگا جب دولہ بنا سرور ہوگا وہ شاک تصور کر کر کے بس روتے ہی رہ جاتے ہیں ہے سب سے آلہ سب خو نو منق اور ظل ما ملد سجاتے ہیں ایک دھوم ارش آزم پر مہمان خدا کے آتے ہیں میرے محمد پیارے بنے ہیں دولہ دولہ نماز اقسام تھا یہی سے حیاء ہمانی یہ ہو بلاخر قدرت بستا کے پیچھے ہاں جو سرت ندر آگے کر گئے تھے نبی رحمت شفیہ امت رضا بللہ ہو انایا اسے فین خیر و توسیعی سا جو خاص رہا ہو مت کے وہاں بٹے تھے میرے محمد پیارے بنے ہیں دولہ دولہ میرے محمد پیارے بنے ہیں دولہ دولہ اللہ کی رحمت سے دلور جا پہنچ دنا کی منزل پر اللہ کا جلوہ بھی دیکھا دیدار کی لذت پاتے ہیں میراج کی شب تو یاد رکھا پھر حشر میں کیسے بھولیں گے آتار اسی امید پہ ہم دن اپنے گزارے جاتے ہیں ہے سب سے آلہ سب خو نو منق اور ظل ما ملد سجاتے ہیں ایک دھوم ارش آزم پر مہمان خدا کے آتے ہیں میرے محمد پیارے بنے ہیں دولہ دولہ میرے محمد پیارے بنے ہیں دولہ دولہ