
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, qasida, madihYear: 2023Type: nasheedComposer: Traditional
Story & Cultural Context
This is a contemporary rendition of the classic 'Salam' (salutations upon the Prophet) traditionally recited in gatherings of Mawlid. It features Hafiz Tahir Qadri alongside his brother Hafiz Ahsan Qadri, focusing on a rhythmic, congregational style of Durood o Salam.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerTraditional
LyricistTraditional / Imam al-Barzanji
ArrangementHafiz Tahir Qadri
ProducerStudio 5
LabelT.Q Production
Featured Artists
Hafiz Ahsan Qadri
Story & Cultural Context
This is a contemporary rendition of the classic 'Salam' (salutations upon the Prophet) traditionally recited in gatherings of Mawlid. It features Hafiz Tahir Qadri alongside his brother Hafiz Ahsan…
Titles in Other Languages
العربيةيا نبي سلام عليك
EnglishO Prophet, Peace be Upon You
TürkçeYa Nebi Selam Alayka
Lyrics
نبی نبی نبی نبی نبی نبی نبی سبا تو مدینہ جا کے کہنا خدا رہا آقا لے لو سلام اب ہمارا یا نبی سلام علیکہ یا رسول سلام علیکہ صلوات اللہ علیکہ یا نبی سلام علیکہ یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا ہسلوں کو تکلف ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں مدنی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤں ٹھک جائیں گے جیسے ہی سبز گمبت نظر آئے گا بندگی کا کرینا بدل جائے گا سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے ادھی بلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے اک بار اتا ہو اب شر پہ حضوری طعبہ سے خدا رہا مٹ جائے دوری طعبہ سے خدا رہا مٹ جائے دوری کبھی میں بھی دیکھوں جنت کی کیاری میں تھام کے جانی کروں عرض گزاری کچھ خواب ادورے میرے کچھ خواب ادورے میرے سرکار کرم فرمانا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بھولانا یا شاہ مدینہ مجھے در پہ بھولانا گلیوں میں گھوم گھوم کر آکے مدینہ چوم کر گلیوں میں گھوم گھوم کر آکے مدینہ چوم کر آنکھوں سے ہم لگائیں گے آج نہیں تو کل صحیح اس شہر کی مٹی اس شہر کا پانی وہ شہر کرم ہے آقا کی نشانی وہ شہر کرم ہے آقا کی نشانی میں خاک مدینہ آنکھوں سے لگاؤں کبھی راسے چوموں کبھی واری جاؤں حسرت ہے دل مزتر کی قدموں میں جبیں کو جھکانا یا رسول اللہ یا حبیب اللہ یا رسول اللہ یا حبیب اللہ کیا کروں کہ یاد آتی اے سنے ریجالیاں دل میں ایک حلچل مچاتی اے سنے ریجالیاں اے کاش موازا ہو سامن میرے رو رو کے سناو دیون کے اندیرے رو رو کے سناو دیون کے اندیرے کبھی دیکھو خود کو کبھی دیکھو جالی کہاں ان کی چوکھٹ کہاں دن سوالی پھر وقت قضا جائے ہو جان انہیں نظرانہ یا شاہ مدینہ یا شاہ مدینہ یا نبی سلام علیکہ یا رسول سلام علیکہ ہر گھڑی حجر مدینہ مجھ کو رکھے بلقرار کاش چین آئے نہ مجھ کو یاد تیوا کے بغیر ایک آس پرانی اس آس پر جینا ہو جائے میسر رمضان مدینہ ہو جائے میسر رمضان مدینہ گمبت کی تجلی انوار کا حرمہ وہ تازہ خجورے وہ ماب زمزم نظریں ہیں گمبت خزرہ پر ہاتھوں میں خجور مدینے کی افطار کی گھڑیاں آئی ہیں بیٹھا ہو مسجد نبوی میں افطار و سحر کی برکت افطار و سحر کی برکت تیوا میں مجھے دکھلانا تیوا میں مجھے دکھلانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا اس در پہ شہنشاہ کرتے ہیں غلامی دن رات فرشتے دیتے ہیں سلامی دن رات فرشتے دیتے ہیں سلامی پر نور نظارے پر کیب فضاء ہیں اس شہر میں کاتب جینے کا مزہ ہے سائے میں کبھی گمبت کے سائے میں کبھی گمبت کے ایک نات لکھے دیوانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا یا شاہ مدینہ مجھ در پہ بھولانا یا نبی سلام علیکہ یا رسول سلام علیکہ