Skip to main content
Sahara Chahiye Sarkar cover art

Sahara Chahiye Sarkar

by Hafiz Tahir Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 10:28

Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, madihYear: 2020Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri

Story & Cultural Context

A popular devotional Naat expressing a deep spiritual plea for the intercession and support of the Prophet Muhammad (PBUH). This specific rendition by Hafiz Tahir Qadri became widely popular for its emotional delivery and traditional rhythmic structure.

← Browse
Sahara Chahiye Sarkar

Sahara Chahiye Sarkar

Nasheeds 10:28 2020
AI-Enriched85%
MaqamBayati
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistTraditional / Folk
ProducerTQR Production
LabelStudio 5

Story & Cultural Context

A popular devotional Naat expressing a deep spiritual plea for the intercession and support of the Prophet Muhammad (PBUH). This specific rendition by Hafiz Tahir Qadri became widely popular for its…

Titles in Other Languages

العربيةنعت سہارا چاہیے سرکار
EnglishI Need Your Support, O Prophet

Lyrics

پھرے آقا مدینے بلالیجئے، سہر شاہی سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا ہوں مدینے کے حاضری کے لیے۔ ہو طیبہ کے جانے والے، جا کر بڑے عدو سے میرا بھی قصہ غم کہنا شہر عرب سے۔ کہنا کے شاہ عالم ہے گرنج و غم کا مارا، دونوں جہاں میں جس کا ہے آپ ہی سہارا۔ حالات پر علم سے اس غم گزر رہا ہے اور کام پتے لبوں سے فریاد کر رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے، مارے گناہ اپنا ہے دوش پر اٹھائے۔ کوئی نہیں ایسا جو پوچھنے کو آئے، کوئی نہیں ایسا جو پوچھنے کو آئے۔ بھولا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈتا ہے، تاریکیوں میں مانے تو مل کو ڈھونڈتا ہے۔ سینے میں ہے اندھیرہ، دل ہے سیاہ کھانا، یہ ہے میری کہانی سرکار کو سنانا۔ کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے تڑپ رہے کبھرے غم میں عشقوں سے آنکھ نم ہے۔ پا مارے زندگی ہوں، سرکار امت دی ہوں، امت کے رنو ماروں، کچھ عرض حال سنوں۔ فریاد کر رہا ہوں میں دل پگار کب سے، میرا بھی قصہ غم کہنا شہر عرب سے۔ حضورﷺ ایسا کوئی اتزام ہو جائے، سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے۔ سہر شاہی سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا ہوں مدینے کے حضرے کے لیے۔ میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ، یہ دوامیں ہی ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ۔ نہیں مال و ذر تو کیا رہے، میں غریب ہوں یقینا، میرے عشق مجھے لے چل کوئی جانی بے مدینہ۔ آقا نہ ٹوٹ جائے، یہ دل کا آبینا، اب کے بارس بھی مولا رہ جاؤں میں کہیں نہ، دل دو رہا ہے جن کا آنسو چھلک رہے گے، ان عاشقوں کا صدقہ، بلواہی مدینہ۔ میرے آقا مدینے بلا لیجئے، مدینے جاؤں پھر آؤں، دوبارہ پھر جاؤں۔ مدینے جاؤں پھر آؤں، دوبارہ پھر جاؤں۔ پھر زندگی میری یوں کی تمام ہو جائے۔ سہر شاہی سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا ہوں مدینے کے حضرے کے لیے۔ اے عاظم مدینہ جا کر نبی سے کہنا، سو سے غمِ علم سے اب جل رہا ہے سینہ۔ کہنا کے بڑے ہیں، اب دل کی دستیرابی، قدموں سے دور گھومیں قسمت کی ہے خیرابی۔ کہنا کے دل میں میرے ارما بھرے ہو گے گئے، کہنا کے حسرتوں کے نشتر چوبے ہو گے گئے۔ اے عرضو یہ دل کی میں بھی مدینے جاؤں، سلطان دو جہاں کو داغے جگر دکھاؤں۔ کانٹوں کا زار چکر، طیبہ کی ہر گلی کے، یوں ہی گزار دوں میں ایام زندگی کے۔ پھولوں پہ جان ساروں، کانٹوں پہ دل کو واروں، ذروں کو دوں سلامی، در کی کروں غلامی، دیواروں در کو چوموں، چوکٹ پہ سر کو رکھ دوں۔ روزے کو دیکھ کر میں روتا رہوں برابر، عالم کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے۔ ہم سب کے دل میں ہے یہ حسرت نہ جانے کب سے۔ میرا بھی قصہ ہے غم کہنا شہر عرب سے۔ ساحر شاہی سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا ہوں مدینے کے حضرے کے لیے۔ ایک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں، ہوگا وہی ٹکانہ سرکار کی گلی میں۔ دل میں نبی کی یادیں، لب پر نبی کی ناتیں، جانا تو ایسے جانا سرکار کی گلی میں۔ یا مصطفیٰﷺ کو دارا، دو اذن خاص ری کا، کرلوں نظارہ جا کر میں آپ کی گلی کا۔ اک بار تو دکھا دو رمضان میں مدینہ، آقا ہمیں دکھا دو رمضان میں مدینہ، بے شک بنا لو آتا مہمان دو گڑی کا۔ نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جائے، جو زندگی کے مدینہ میں شام ہو جائے۔ ساحر شاہی سرکار زندگی کے لیے تڑپ رہا ہوں مدینے کے حضرے کے لیے۔ بلا لو نا جو زندگی کے مدینہ میں شام ہو جائے۔ ساحر شاہی سرکار زندگی کے لیے بلا لو نا.