
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, manqabat, qasida, sufiYear: 2024Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
This Manqabat is a tribute to Khwaja Moinuddin Chishti (Ghareeb Nawaz), the 12th-century Sufi saint of the Chishti Order. It was released to commemorate the annual Urs (death anniversary) celebrations in Ajmer Sharif, India.
← Browse

AI-Enriched90%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSaeed Qadri
ArrangementFarhan Qadri
ProducerT.Q Production
LabelHafiz Tahir Qadri Official
Story & Cultural Context
This Manqabat is a tribute to Khwaja Moinuddin Chishti (Ghareeb Nawaz), the 12th-century Sufi saint of the Chishti Order. It was released to commemorate the annual Urs (death anniversary) celebrations…
Titles in Other Languages
العربيةشاه هند الولي تم هو خواجة
EnglishYou are the King and Saint of India, O Khwaja
Lyrics
شاہِ ہندلوالی تم ہو خواجہ ہم کو اجمر اپنا دکھا دو کیا غریب نواز؟ کیا غریب نواز؟ اجمر جاؤں گا اجمر جاؤں گا اپنے خواجہ جی کے دربار میں جاؤں گا بھائی بھائی آپ اجمر جا رہے ہیں؟ آپ خواجہ جی کے عرص پہ جا رہے ہیں؟ مجھے جانا ہے میں نے ان کی غریب نوازی کے بڑے چرسے سنے ہیں میں کب سے پیاسا ہوں کب سے جانا چاہتا ہوں میں جاؤں گا میرے غریب نواز مجھے ضرور بھولائیں گے میں ان کے دربار میں جاؤں گا میں اجمر جاؤں گا میں ضرور جاؤں گا میں ضرور جاؤں گا میں اجمر جاؤں گا ضرور جاؤں گا اجمر اجمر آجا میرے خواجہ آجا میرے خواجہ اب کرپا کرو خواجہ میں تم رہ بھی کالی ہوں یا خواجہ حسن تم نیچوں کھٹ کا سوالی ہوں مست ماں کے پیارے لڑنے آجا ہمیں درب بلا لے شاہِ ہندلوالی تم ہو خواجہ ہم کو اجمر اپنا دکھا دو شاہِ ہندلوالی تم ہو خواجہ ہم کو اجمر اپنا دکھا دو ہم تمہارے بکار یہ خواجہ عشقِ عارنگ اپنا چڑھا دو لے کے آوے گے کشکول خالی تم رہ روزے پہ سارے سوالی اے مویندر جہاں نور ہے در زندگی اب ہماری سجا دو شاہِ ہندلوالی تم ہو خواجہ ہم کو اجمر اپنا دکھا دو میرے پیارے ربیب لمو عشقِ عارنگ اپنا چڑھا دو تم ہو بنیوں کے راجہ جا ہندلی ولی تم سے پہنی ہے خواجہ یہاں روشنی ہم کو اجمر بولوڑو خواجہ سخیم دور رہ کر کٹے گی نا یہ زندگی شاہِ ہندلوالی تم ہو خواجہ ہم کو اجمر اپنا دکھا دو میرے خواجہ پیا مومتا اے معصوموں کا ہم غریبوں کا تم آسرا ہو خواجہ مومتا اے معصوموں کا ہم غریبوں کا تم آسرا ہو خواجہ صدق پنجتن کا سنجر کے والی میری بگڑی بھی خواجہ بنا دو شاہِ ہندلوالی تم ہو خواجہ ہم کو اجمر اپنا دکھا دو میرے خواجہ پیا ہم تمہارے بکاری ہیں خواجہ عشقِ عرنگ اپنا چڑھا دو محبتہ بے سوالی کو کھڑا رہنے دو صدقہ مت سب کا ہے تو جھکا رہنے دو خود ہی فرمائیں گے مجرم پہ وہ رحمت کی نظر مجھ کو خواجہ کی عدالت میں کھڑا رہنے دو مجھ کو مل جائے گا صدقہ میں چلا جاؤں گا وسائے دل میرا قدموں میں پڑا رہنے دو صدقہ پنجتن کا سنجر کے والی میری بگڑی بھی خواجہ بنا دو میرے بگڑی بھی خواجہ بنا دو میرے خواجہ پیا میری سجدوں کی چاہت ہے عجمیر میں میری آنکھوں کی سرمت ہے عجمیر میں غلط مندوں کی راحت ہے عجمیر میں ہم غریبوں کی دولت ہے عجمیر میں شاہِ زندر والے تم ہو خواجہ ہم تو عجمیر اپنا دکھا دو ہم تمہارے بکاری ہیں خواجہ عشق کی آنگز اپنا چڑھا دو آجا حسماحاں نور کی کے پیارے غوثِ عظم کی آنکھوں کے تارے غوثِ عظم کی آنکھوں کے تارے آجا حسماحاں نور کی کے پیارے غوثِ عظم کی آنکھوں کے تارے کر کے نظروں کرم مجھ پہ خواجہ میرا سویا نصیبہ جگا دو شاہِ زندر والے تم ہو خواجہ ہم تو عجمیر اپنا دکھا دو ہم تمہارے بکاری ہیں خواجہ عشق کی آنگز اپنا چڑھا دو ہے یہ امران یاد تمہارا خواجہ اے خواجہ اب خدا رائے ہم ندہ سہی نہ ید سے پیارے چاہوں میں الفت اسے بھی پیارہ شاہِ زندر والے تم ہو خواجہ ہم تو عجمیر اپنا دکھا دو ہم تمہارے بکاری ہیں خواجہ عشق کی آنگز اپنا چڑھا دو مست ماں کے پیارے نادرے آجا ہمیں درب بلالے خواجہ جی خواجہ جی