Skip to main content
Dar E Nabi Par cover art

Dar E Nabi Par

by Hafiz Tahir Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 7:33

Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2020Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri

Story & Cultural Context

This is a contemporary rendition of a classic Sufi kalam popularized by the Sabri Brothers. It expresses the deep longing of a devotee to be present at the door of the Prophet Muhammad ﷺ in Medina.

← Browse
Dar E Nabi Par

Dar E Nabi Par

Nasheeds 7:33 2020
AI-Enriched85%
MaqamBayati
Instruments
vocal-onlypercussionduff

Credits

ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistTraditional / Sabri Brothers (Original)
ArrangementMuhammad Ahsan
ProducerTQ Production
LabelStudio 5 / TQ Production

Story & Cultural Context

This is a contemporary rendition of a classic Sufi kalam popularized by the Sabri Brothers. It expresses the deep longing of a devotee to be present at the door of the Prophet Muhammad ﷺ in Medina.

Titles in Other Languages

العربيةعند باب النبي
EnglishAt the Door of the Prophet ﷺ
TürkçePeygamber Kapısında

Lyrics

در نبی پر یہ عمر بیتے وہ ہم پہ لطفِ دوام ایسا مدینہ جان مدینہ دل کا چین مدینہ آنکھوں کا تارہ مدینہ سب کا سہارہ مدینہ در نبی پر یہ عمر بیتے وہ ہم پہ لطفِ دوام ایسا مدینہ والے کہیں مقامی لو ان کے در پر قیام ایسا نماز کا قصہ میں جب پڑھائی تو انبیاء اور اب سنی ہوئے نماز ہو تو نماز ایسی امام ہو تو امام ایسا در نبی پر یہ عمر بیتے وہ ہم پہ لطفِ دوام ایسا مدینہ والے کہیں مقامی لو ان کے در پر قیام ایسا طیبہ میں گھر میرا گھر ایسا کرم ہو سرور گنبد کو جب بھی دیکھو پڑھ لوں سلام تم پر بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدہ بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدہ نصیب ہو تو نصیب ایسا گناہ ہو تو بلال جیسا در نبی پر یہ عمر بیتے لو پہ نام نبی جب آیا گورے زباہ دیسوں کو پایا جو ٹال دیتا ہے مشکلوں کو میرے نبی کا ہے نام ایسا میری بگڑی بنانے کو نبی کا نام کافی ہے ہزاروں غم مٹانے کو نبی کا نام کافی ہے غموں کی دھوپ گویا پھر ہوا ایسے چلتی ہو میرے اس آشیانے کو نبی کا نام کافی ہے جو ٹال دیتا ہے مشکلوں کو میرے نبی کا ہے نام ایسا موجی کو دیکھو وہ بے طلب ہی نوازتے جا رہے ہیں ہم موجی کو دیکھو وہ بے طلب ہی نوازتے جا رہے ہیں ہم نہ کوئی میرا عمل ہے ایسا نہ کوئی میرا ہے کام ایسا نہ کوئی عمل ہے سنانے کے قابل نہ موہ ہے تمہارے دکھانے کے قابل لگاتے وہ اس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں مو لگانے کے قابل نہ کوئی میرا عمل ہے ایسا نہ کوئی میرا ہے کام ایسا درِ نبی پر یہ عمر بیتے وہ ہم پہ لطفِ دوام ایسا مدینے والے کہیں مقامی یا تن کے در پر قیام ایسا میں خالید اپنے نبی پہ قربان ہے جن کا خلقِ عظیم قرآن ہے روشنی جسے کی دو جہان میں یہی رہمارے تمام ایسا درِ نبی پر یہ عمر بیتے وہ ہم پہ لطفِ دوام ایسا مدینے والے کہیں مقامی وہ ان کے در پر قیام ایسا مدینہ تُن نبی سرکار کا مدینہ