
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, manqabat, madihYear: 2021Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
This manqabat is a tribute to Imam Ahmed Raza Khan (Ala Hazrat), the 19th-century Islamic scholar and polymath. It was released to commemorate his legacy and is frequently recited during his annual death anniversary (Urs).
← Browse

AI-Enriched95%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSaeed Qadri
ArrangementT Q Studio
ProducerT Q Studio
LabelHafiz Tahir Qadri Official
Story & Cultural Context
This manqabat is a tribute to Imam Ahmed Raza Khan (Ala Hazrat), the 19th-century Islamic scholar and polymath. It was released to commemorate his legacy and is frequently recited during his annual…
Titles in Other Languages
العربيةواہ کیا بات اعلیٰ حضرت کی
EnglishHow Great is the Status of Ala Hazrat
Lyrics
رضا رضا رضا میرے آقا و مولا سرکار علا حضرت نہ تجلتے رہیں دشمنان رضا تم نہ ہوں گے کبھی مدحان رضا کہہ رہے ہیں سبھی آشکان رضا مسلکِ علا حضرت اسلامت رہے اسلامت رہے اسلامت رہے واہ کیا بات علا حضرت کی واہ واہ واہ کیا بات علا حضرت کی میں ہوں سنی میرا دل ہے دیوانا علا حضرت کا میرا مرکز بنا ہے آستانا علا حضرت کا نبی کے عشق میں قربان کر دی زندگی جس نے زمانہ جانتا ہے آشکانا علا حضرت کا واہ سرکار علا حضرت واہ کیا بات علا حضرت کی ایسے نسیب جاری رہے گے ایسے نسیب جاری رہے گے کسی موش اگر مجھ سے پوچھے خدا بھول آل رسول تُلایا ہے کیا ہرز کر دوں ظالانا ہوا ہوں رضا یا خدا یہ امانت سلامت رہے سلامت رہے واہ سرکار علا حضرت واہ کیا بات علا حضرت کی سرکار علا حضرت سرکار علا حضرت کی میرے مرشد رضا میرے رہبر رضا میرے حادی رضا کبھی بھی آپ نے غیروں کے حق میں کچھ نہیں لکھا نبی کے واسطے تھا شائرانا علا حضرت کا گرا دیں گے گستاخ نبی کو ایک ہی حملے میں کبھی خالی نہیں جاتا نشانا علا حضرت کا سرکار علا حضرت واہ کیا بات علا حضرت کی اہل ایمان تُو کیوں پریشان ہے رہبری کو تیری کنزلیمان ہے ہر قدم پر یہ تیرانی گیوان ہے یا خدا یہ امانت سلامت رہے او جی تیجا کسی تصویر سے تقوی کا رکھتی حق دارِ حقق سو فیانا علا حضرت کا کوئی ہے مفتیِ آزم کوئی تاجو شریعہ ہے علگ ہے ہر گھرانو سے گھرانا علا حضرت کا سرکار علا حضرت واہ کیا بات علا حضرت کی نار فیض رضا کا لگاتے رہو انگیروں کے دینوں کو جلاتے رہو اور کا نام رضا تم سناتے رہو فردِ احمد رضا تک قیامت رہے نبی کے نام کا صدقہ لٹاتے ہیں وہ روزانہ مگر ہوتا نہیں ہے کم خزانہ علا حضرت کا رسول پاک کے گستاخ سے تھی دشمنی ان کی تھا عشا کے نبی سے دوستانہ علا حضرت کا میں ناظہ ہوں کہ آسم دیارِ علا حضرت میں محمد اللہ لکھا میں نے فسنا علا حضرت کا سرکار علا حضرت واہ کیا بات علا حضرت کی سرکار علا حضرت سرکار علا حضرت کی رضا پیارِ رضا رضا سونِ رضا