
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, manqabat, madihYear: 2024Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
This track is a Manqabat (devotional poem) dedicated to the 20th-century Islamic scholar Naeem-ud-Deen Muradabadi, known as Sadrul Afazil. It highlights his contributions to the Quranic commentary 'Khaza'in-ul-Irfan' and his role in the Ahl-e-Sunnat movement.
← Browse

AI-Enriched90%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistAllama Nisar Ali Ujagar
ProducerT.Q Production
LabelHafiz Tahir Qadri Official
Story & Cultural Context
This track is a Manqabat (devotional poem) dedicated to the 20th-century Islamic scholar Naeem-ud-Deen Muradabadi, known as Sadrul Afazil. It highlights his contributions to the Quranic commentary…
Titles in Other Languages
العربيةمنقبة صدر الأفاضل نعيم الدين مراد آبادي
EnglishPraise of Sadrul Afazil - Naeem Ud Deen Muradabadi
Lyrics
بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا وہ اولادِ علیؑ آلِ نبیؑ سہرا کے پیارے ہیں وہ اولادِ علیؑ آلِ نبیؑ سہرا کے پیارے ہیں کتنا دل نشی شجرہ میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی بریلی کے مجدد نے بھی کی تعریف حضرت کی بریلی کے مجدد نے بھی کی تعریف حضرت کی اکابر نے پڑھا خطبہ میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی مفسر بھی مصنف بھی محدث بھی مقرر بھی اہلِ علم میں شہران میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی قلم سے دشمنانِ مصطفیٰ کے دل کیے زخمی قلم تھا یا کے پھر رضا میرے صدرالافاظل کا قلم تھا یا کے پھر رضا میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی وہ منہ آیا سروں کا ایک سمندر اے جہاں والوں جنازہ جس گھڑی اٹھا میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی وہ تنہا ہو کے بھی بھاری تھے عاصم ہزاروں پر وہ دب دبا ایسا میرے صدرالافاظل کا بڑھایا رب نے یوں رتبہ میرے صدرالافاظل کا لگوں پہ جاری ہے چرچہ میرے صدرالافاظل کا میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی میرے رضا کی جان، سنیوں کی شان، رہم الدین مراد آبادی