Skip to main content
Khula Hai Sabhi Ke Liye Baab e Rehmat cover art

Khula Hai Sabhi Ke Liye Baab e Rehmat

by Hafiz Tahir Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 7:55

Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, madihYear: 2022Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri

Story & Cultural Context

This is a contemporary rendition of the classic Naat written by the legendary poet Muzaffar Warsi. It was released specifically for the month of Rabi ul Awal to celebrate the birth of the Prophet Muhammad (PBUH).

← Browse
Khula Hai Sabhi Ke Liye Baab e Rehmat

Khula Hai Sabhi Ke Liye Baab e Rehmat

Nasheeds 7:55 2022
AI-Enriched90%
MaqamBayatiOccasionRabi ul Awal
Instruments
vocal-onlypercussion

Credits

ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistMuzaffar Warsi
ArrangementHafiz Tahir Qadri
ProducerT.Q Production
LabelStudio 5

Story & Cultural Context

This is a contemporary rendition of the classic Naat written by the legendary poet Muzaffar Warsi. It was released specifically for the month of Rabi ul Awal to celebrate the birth of the Prophet…

Titles in Other Languages

العربيةخلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت
EnglishThe Door of Mercy is Open for Everyone

Lyrics

بے باحا, بے باحا, بے باحا, بے باحا
کھلائے سبھی کے لیے بابِ رحمت
وہاں کوئی رتبے میں ادنا نہ آلی
مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی
پتارے لگائے کھڑے ہیں سوالی
بے پہلے پہلے جب مدینے گیا تھا
تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی
بے پہلے پہلے جب مدینے گیا تھا
تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی
وہ دربارِ سرکار میں سامنے تھا
ابھی تک تصور میں تھا جس کا خیالی
کھلائے سبھی کے لیے بابِ رحمت
وہاں کوئی رتبے میں ادنا نہ آلی
صل اللہ علیہ وسلم
رحمت کا در کھلا ہے دربارِ مصطفیٰ میں
بن مانگے ملنا ہے دربارِ مصطفیٰ میں
ان پر درود غرم ان پر سلام غرم
ہر ایک پر لگا ہے دربارِ مصطفیٰ میں
سینے پہ ہاتھ رکھ کر میں دل کو ڈھونٹا ہوں
دل مجھ کو ڈھونٹا ہے دربارِ مصطفیٰ میں
جو ایک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا
تو تھی دوسرے ہاتھ میں ان کی جالی
دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے تو کیسے
نہ یہ ہاتھ کھالی نہ وہ ہاتھ کھالی
کھلائے سبھی کے لیے باب رحمت
وہاں کوئی روحب میں ادنا نہ آلی
صل اللہ علیہ وسلم
دربار مصطفیٰ دربار مصطفیٰ دربار مصطفیٰ دربار مصطفیٰ
جو پوچھا ہے تم نے کہ میں نظر کرنے کو کیا لے گیا تھا
تو تفصیل سن لو جو پوچھا ہے تم نے کہ میں نظر کرنے کو کیا لے گیا تھا
تو تفصیل سن لو تھا ناتوں کا اک عشقوں کے موٹی درودوں کا گجرا سلاموں کی ڈالی
کھلا ہے رحمت کا در کھلا ہے دربار مصطفیٰ میں بن مانگے ملنا ہے دربار مصطفیٰ میں
صل اللہ علیہ وسلم
میں توصیف سرکار تو کر رہا ہوں مگر اپنی عقادت سے باخبر ہوں
میں توصیف سرکار تو کر رہا ہوں مگر اپنی عقادت سے باخبر ہوں
میں سے فیض یاب سنا خان کہاں میں کہاں ناتیں کبالو ہاری
کھلا ہے سبیع کے لیے باب رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنا ناپاری
صل اللہ علیہ وسلم
صل اللہ علیہ وسلم
صل اللہ علیہ وسلم
صل اللہ علیہ وسلم