
Maqam: BayatiGenre: nasheed, manqabat, madihYear: 2023Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
A devotional Manqabat released for the month of Muharram to honor the sacrifice of Imam Hussain at Karbala. The lyrics emphasize that there is no one comparable to Hussain in his steadfastness and devotion to Islam.
← Browse

AI-Enriched90%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSaeed Ahmed Saeed
ArrangementMuhammad Shahzad
ProducerTahir Qadri Production
LabelHafiz Tahir Qadri Official
Story & Cultural Context
A devotional Manqabat released for the month of Muharram to honor the sacrifice of Imam Hussain at Karbala. The lyrics emphasize that there is no one comparable to Hussain in his steadfastness and…
Titles in Other Languages
EnglishThere is No One Like Hussain
Lyrics
حسین جیسا کوئی نہیں ہے یا امام حسین لباس پہ ساہوا غبار میں اٹا ہوا تمام جسم نازنی چی دا ہوا کٹا ہوا یہ کون دیو سکار ہے بھلا کا شاہ سوار ہے یہ ہزاروں ساطلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ گل یقین حسین ہے نبی کا نورِین ہے یہ گل یقین حسین ہے نبی کا نورِین ہے بینا غریب فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے یہ جس کے دب دبی سے رنگ دشمنوں کا سرد ہے عقیدِ مصطفیٰؐ ہے یہ مجاہدِ خدا ہے یہ لڑتی تو لشکر سامنے یہ فوج کرتے درد ہے یہ گل یقین حسین ہے نبی کا نورِین ہے یہ گل یقین حسین ہے نبی کا نورِین ہے یہ گل یقین حسین ہے نبی کا سورین ہے سراپا صبر و وفا کا پیکر حسین جیسا کوئی نہیں ہے صفا ہے سینِ نبی کا اک سر حسین جیسا کوئی نہیں ہے حسین جیسا کوئی نہیں ہے یہ روحِ ذل فکارِ حیدر یزی دیت پر وہ قہر بن کر ہے برسہ نسلِ جنابِ حیدر حسین جیسا کوئی نہیں ہے یہ فردِ فقرِ پنجتن ہے لباسِ حیدر کا زیبِ تن ہے علی کے جیسا ہے رنگ زیور حسین جیسا کوئی نہیں ہے حسین جیسا کوئی نہیں ہے ادھر سپاہِ شام ہے ہزار انتظام ہے ادھر ہے دشمن سامنے ادھر فقط امام ہے مقدر عجیب شان ہے غضب کی آزمام ہے ادھر طرف اس کی ہے تیب بس خدا کا نام ہے آبا بھی تاجدار ہے تو جسم بھی فشار ہے زمین بھی تصیح کو بھی فلم بھی شولہ بار ہے مقدر یہ مردِ استغاہِ ننگِ سروشکِ فنکِ فیغندہ مار سبروسکندہ ہے اسے میرے کاری سار ہے یہ گل یقین حسین ہے نبی کا سورین ہے نبی کا وعدہ وفا کیا ہے نبی کے دین کو بچا لیا ہے لٹا کے اکبر لٹا کے ازغر حسین جیسا کوئی نہیں ہے چلا میدان میں ابنِ حیدر لرزا رہا ہے یزیدی لشکر یہی صدا ہے ہر ایک زبا پر حسین جیسا کوئی نہیں ہے نشان بھی ہے یزیدیت کا حسینیات کا ہے بول والا ہے بادشاہ گواہ اس پر حسین جیسا کوئی نہیں ہے خدا کا محبوب اس کا زانا جنابِ حیدر ہے اس کا بابا حسن ہے اس کا بڑا بھیادر حسین جیسا کوئی نہیں ہے دوبر مسئلہ ہم کرے نہ کیوں کر حسین جیسا کوئی نہیں ہے تمہارا شوق فریدی مولا یہ تاہر قادری بھی مولا پکارے گا تا خیامِ محشر حسین جیسا کوئی نہیں ہے حسین جیسا کوئی نہیں ہے اللہ میرا بھی میں ذکر آیا شہید زندہ حسین زندہ حسین زندہ شہید زندہ دوبر مسئلہ ہم کرے نہ کیوں کر حسین جیسا کوئی نہیں ہے دوبر مسئلہ ہم کرے نہ کیوں کر حسین جیسا کوئی نہیں ہے یہ گل یقین حسین ہے نبی کا سورین ہے لباس دیتا ہے دین کا لشکر حسین جیسا کوئی نہیں ہے اللہ میرا بھی میں ذکر آیا شہید زندہ حسین زندہ حسین زندہ شہید زندہ دوبر مسئلہ ہم کرے نہ کیوں کر حسین جیسا کوئی نہیں ہے حسین جیسا کوئی نہیں ہے تمہارا شوق فریدی مولا یہ تاہر قادری بھی مولا پکارے گا تا خیامِ محشر حسین جیسا کوئی نہیں ہے حسین جیسا کوئی نہیں ہے