Skip to main content
Mere Khuwaja Karam Kijiye cover art

Mere Khuwaja Karam Kijiye

by Hafiz Tahir Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 9:13

Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, manqabat, qasidaYear: 2024Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri

Story & Cultural Context

This manqabat is a devotional tribute to Khwaja Moinuddin Chishti (Gharib Nawaz), the founder of the Chishtiya order in South Asia. It was released in anticipation of the 2025 Urs (death anniversary) celebrations in Ajmer Sharif, focusing on themes of spiritual intercession and mercy.

← Browse
Mere Khuwaja Karam Kijiye

Mere Khuwaja Karam Kijiye

Nasheeds 9:13 2024
AI-Enriched85%

Credits

ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSaeed Qadri
ArrangementMuhammad Shahzad
ProducerT.Q Production
LabelHafiz Tahir Qadri Official

Story & Cultural Context

This manqabat is a devotional tribute to Khwaja Moinuddin Chishti (Gharib Nawaz), the founder of the Chishtiya order in South Asia. It was released in anticipation of the 2025 Urs (death anniversary)…

Titles in Other Languages

EnglishMy Khuwaja, Please Show Mercy

Lyrics

ہمیں تُو نے اپنا بنا لیا، ہمیں تُو جہاں سے بچا لیا تیرا دست جود میں رض ہے، تُو بڑا غریب نواز ہے میرے خاجہ کرم کیجئے در پہ دیوانے حاضر ہوئے جو لی پھیلائے ہیں آج ہم، بہر سرکار لا کے برم صدقہ حسنین کا دیجئے میرے خاجہ کرم کیجئے نانا ہے سرور دو سرا، ماں ہے خیرن نساء فاطمہ کتنے پاکیزہ ہیں سلسلے میرے خاجہ کرم کیجئے ہم راز ہیں بس تجھ پر کسی اور پہ ناز نہیں تیرے جیسے زمانے میں کوئی بند نواز نہیں تیرے دین دلانے کا انداز نراضہ ہے کسی اور کا دنیا میں ایسا انداز نہیں آپ جو اس طرف دیکھ لیں ایک کرم کی نگاہ ڈالدیں مجھ سے بیکاس کی بگڑی بنیں میرے خاجہ کرم کیجئے در پہ دیوانے حاضر ہوئے تیرے جان پہ ہے صدقے قربان میرے خاجہ اے ابن صفی خاجہ اے ہند ولی خاجہ تیرے در کے بھیکاری ہیں تیرے در کے بھگتے ہیں دانو آنے تو خاجہ تیرے ٹکڑوں پہ پلتے ہیں فریاد میری سن لو اے ہند کے بادشاہ میں آنسل گائے ہوں کبھی میرے بھی گھر آجا تیرے آگے ہماری کچھ اوقات نہیں خاجہ جو کام ہمارے ہیں تیرے نام سے چلتے ہیں آپ ہے مصطفیٰ کے حبیب کتنو کا ہے سارا نصیب اب تو ہم پر خدا کے لئے میرے خاجہ کرم کیجئے شاہنے والے ہیں آپ کے در پہ دیوانے حاضر ہوئے مجھ کو مل جائے گا سرکا میں چلا جاؤں گا خاصہ اے دل میرا قدموں میں پڑا رہنے دو خود ہی فرمائیں گے مجھ دن پہ وہ رحمت کی نظر مجھ کو خاجہ کی عدالت میں کھڑا رہنے دو آپ کی چشمِ رحمت اٹھے جو گیجے پال کلمہ پڑھے صدقے میں آپ کی شان کے میرے خاجہ کرم کیجئے آپ کے لطف کے فضل کے مہربانی کے ارجود کے ہر طرف جگ میں ہے تصویریں میرے خاجہ کرم کیجئے سر پہ ہے رنجو غم کی گھٹا جینا دشوار اپنا ہوا اب تو سرکار کے واسطے میرے خاجہ کرم کیجئے ہم میں تقدیر ہے مبتلا آپ سے کر رہا التجا اس کے دل کو سکون اب ملے میرے خاجہ کرم کیجئے در پہ دیوانے حاضر ہوئے موین الدین حسن نام پانا ہے بسوے مغریبا یک نگاہ ہے