
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, madih, qasidaYear: 2025Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
This Kalam celebrates the Isra and Mi'raj (the Night Journey and Ascension) of Prophet Muhammad (PBUH). It describes the Prophet as the 'Groom of Meraj' (Meraj Ke Dulha) arriving in the heavens with great honor and splendor.
← Browse

AI-Enriched90%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistTraditional / Sufi Kalam
ArrangementT Q Studio
ProducerHafiz Tahir Qadri
LabelT Q Production
Story & Cultural Context
This Kalam celebrates the Isra and Mi'raj (the Night Journey and Ascension) of Prophet Muhammad (PBUH). It describes the Prophet as the 'Groom of Meraj' (Meraj Ke Dulha) arriving in the heavens with…
Titles in Other Languages
العربيةعريس المعراج
EnglishThe Groom of Meraj Goes with Great Splendor
Lyrics
میں راج والے دولہ آؤں اثرہ پہ گزرے جس دم پیرے پہ قدسیوں کے ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ پیغام لیے آئے گا جبریل زمیں پر اے سرور کونن چلے عرش بری پر طالب گئے خدا آج کی شب آپ کا سرور دیدار خدا کر لیں شاہ قرب میں جا کر اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ جبریل ابھی کہنے لگے چوم کے تل میں براج ہے تیار کھڑی آئیے چلیے بیتاب ہیں عرشی نے دکھلائیے جلوے سب ہوروں ملک دید کے مشتاق ہیں کب سے اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ مشتاق تھی اقسام رسولوں کی جماعہ سرکار نے کی سارے رسولوں کی امامہ حق سے چلے قرب خدا کے لیے حضرت سب شان نبی دیکھتے کرتے رہے غیرہ اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ مرتبہ میرے نبی کا کیا جی مششان ہے رب تعالی نے کیا کیسا انہیں زیشان ہے واقعہ میراج کا ہے موجزہ سرکار کا رب تعالی نے کیا اپنا انہیں مہمان ہے اپنے سے وفاداری کا اظہار کریں گے میراج کی شب محفل سرکار کریں گے سرکار کی سرکار میں میراج کے صدقے بخشیش کے لیے عرزش گناہگار کریں گے اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ میراج کی شب عرش پہ سرکار کا جانا دیدار خدا کر کے بھی پھر لوٹ کے آنا سرکار کی خاطر سب کچھ ٹھہر سا جانا کیا شان رسالت ہے کہ ششتر ہے زمانا اسرور عالم کو رسولوں نے سلامی کی شاخ مدینہ کی فرشتوں نے غلامی ہر سمت سے آتی ہے صدا سل اللہ کی ہے دھوم مچی عرش پہ میراج نبی کی اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ باراجوں بٹا نور کا کاشب اثران اس میں سے ملے شوق فریدی کو بھی حصہ للغاتا کیجئے میراج کا صدقہ کاسا لیے دہلیز پہ حاضر ہے یہ منگتا اللہ نے محبوب کو گہ پاس بلائیا جاتے ہیں بڑی شان سے میں راج کے دولہ سر نے متاؤں سے طلب ہوئی تو منتہاں کو چلے نبی کوئی حد ہے کے عروج کی وہ روان ولا بھی کمانی ہوئی لو متا کے مسیح ہوئے سر عرش تخت وسیح ہوئے یہ نبی ہے جن کے یہ یہ مطا وہ خدا ہے جس کا مطا نہیں