
Maqam: RastGenre: nasheed, naat, kalamYear: 2024Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
A celebratory kalam welcoming the holy month of Ramadan, focusing on the blessings of fasting and the revelation of the Quran. It is a modern rendition of traditional South Asian 'Aagya Maah-e-Ramzan' poetry, popularized within the Dawat-e-Islami and Sunni circles.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSiddique Ismail
ArrangementT Q Studio
ProducerHafiz Tahir Qadri
LabelT Q Records
Story & Cultural Context
A celebratory kalam welcoming the holy month of Ramadan, focusing on the blessings of fasting and the revelation of the Quran. It is a modern rendition of traditional South Asian 'Aagya Maah-e-Ramzan'…
Titles in Other Languages
العربيةأقبل شهر رمضان
EnglishThe Month of Ramadan Has Arrived
TürkçeRamazan Ayı Geldi
Lyrics
ہے رحمتِ رمضان، ہے رحمتِ رمضان رمضان کے مہینے میں سارے روزے رکھیں گے اور نمازیں پڑھ کے ہم رب کو راضی کر لیں گے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا آگیا رب تو مہمان ہے آگیا آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے بزمِ افتار پھر سے ہے سجنے لگی پھر سے رونک مساجد کی بڑھنے لگی شکر مولا کے غفلت اترنے لگی سارے سجدے میں سر کو جھکانے لگے رمضان ہے رمضان آگیا رب تو مہمان ہے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے برکت ہے کیا کیا شان ہے رمضان تو رمضان ہے سرکار کا فیضان ہے رمضان تو رمضان ہے آج گھر پر ہے روزہ کو شاہی میری اس لیے پیاری محفل سجائی گئی ننی ننی اداوں سے بچے سبھی سب کو مہوے مسررت بتانے لگے رمضان ہے رمضان آگیا رب تو مہمان ہے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے رمضان کے مہینے میں سارے روزے رکھیں گے اور نمازیں پڑھ کے ہم رب کو راضی کر لیں گے آج پڑھنے لگا نیک آمال کا کیسا پیارا مہینہ ہے یہ سال کا حال بدل آگے ہر ایک بدحال کا غم کے مارے سبھی مسکرانے لگے رحمت کا مہینہ آگیا روزہ رکھیں گے برکت کا مہینہ آگیا روزہ رکھیں گے کھل گئے جنتوں کے سبھی راستے اور اب وہاں بے دون سب کو تانے لگے بیڑیوں میں ہے شیطان جکڑے ہوئے اور سے گھبرا کے آسو بہانے لگے رمضان ہے رمضان آگیا رب تو مہمان ہے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے رمضان کے مہینے میں سارے روزے رکھیں گے اور نمازیں پڑھ کے ہم رب کو راضی کر لیں گے لائیت القبر میں جاگنا ہے ہمیں غفلت کو بھی چھوڑنا ہے ہمیں تاکہ راتوں میں سب مانگنا ہے ہمیں تاکہ نیا گماری ٹھکانے لگے رمضان ہے رمضان آگیا مہمان ہے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے پھر سے آمد ہوئی ماہِ رمضان کی پھر دیلوں کے چمن لہلہانے لگے چار سو ہے صدا مرحبا مرحبا اہلِ ایمان خوشیاں منانے لگے پھر سے رمضان کی یہ مبارک گھڑی فضلِ رب الاولاسے ہمیں مل گئی کر کے شوقِ فریدی تشکر سبھی باغِ خفتہ کو پھر سے جگانے لگے رمضان ہے رمضان آگیا رب تو مہمان ہے آگیا ماہِ رمضان ہے آگیا رب تو مہمان ہے رمضان کے مہینے میں سارے روزے رکھیں گے اور نمازیں پڑھ کے ہم رب کو راضی کر لیں گے