
Maqam: BayatiGenre: nasheed, naat, manqabat, madihYear: 2024Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
This manqabat is a tribute to Imam Hussain (R.A) and the martyrs of Karbala, released ahead of the 1447 Hijri year. It emphasizes the spiritual legacy and the stance of Imam Hussain against oppression, featuring the collaborative vocals of the Qadri brothers.
← Browse

AI-Enriched85%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSiddique Ismail
ArrangementHafiz Ahsan Qadri
ProducerT.Q Production
LabelHafiz Tahir Qadri Official
Featured Artists
Hafiz Ahsan Qadri
Story & Cultural Context
This manqabat is a tribute to Imam Hussain (R.A) and the martyrs of Karbala, released ahead of the 1447 Hijri year. It emphasizes the spiritual legacy and the stance of Imam Hussain against…
Titles in Other Languages
العربيةحسين كيهتي هين
EnglishHussain Says
Lyrics
سلام، سلام، سلام يا حسين سلام، سلام، سلام يا حسين زمين وآسمان میں حسين سا کوئی نہیں خدا کے اس جہان میں حسين سا کوئی نہیں رضاِ حق پہ کر بلا میں اپنا سب لٹا دیا خدا کے اس جہان میں حسين سا کوئی نہیں حسين سا کوئی نہیں حسين سا کوئی نہیں لکھے گا کون اس طرح شہادتوں کی داستہ کسی کے خاندان میں حسين سا کوئی نہیں کرے گا کون سامنا یزید وقت کا یہاں ہمارے درمیان میں حسين سا کوئی نہیں حسين سا کوئی نہیں حسين سا کوئی نہیں حسين سا کوئی نہیں سراپس اتکو وفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں حسينیت کا زمانے میں ہوتا ہے چرچا یزیدیت کا نشاں بھی کہیں نہیں ملتا اسی لیے کو لگاتے رہے اہلِ حق نعرہ فنا یزید بقا کو حسين کہتے ہیں سراپس اتکو صفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں سلام یا حسين حسين نام ہے شفقت کا ویرمانی کا حسين نام ہے جورت کا کامرانی کا سبب حسين ہے باطل کی ناتوانی کا مجاہدوں کی سزا کو حسين کہتے ہیں سراپس اتکو صفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں سلام یا حسين سلام یا حسين نبی کے دین پہ قربان ہوا جوان بیٹا شہید ہو گیا کربل میں ننہ شہزادہ مسیبتوں میں بھی کرتا رہا جو شکرِ خدا اسی خدا کی رضا کو حسين کہتے ہیں سراپس اتکو صفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں سلام یا حسين حسين ظالم سے جفا کو ہے توڑنے والا حسين ناتہ خدا سے ہے جوڑنے والا حسين صبر کی پوشاک اوڑنے والا صراطِ رشد و ہدا کو حسين کہتے ہیں سراپس اتکو صفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں سلام یا حسين حسينیت پہ جو قائم ہے وہ ترابی ہے یہی وہ لوگ سچے انقلابی ہے رگوں میں خون غلالی ہے خاندانی ہے انہی کے راہنما کو حسين کہتے ہیں سراپس اتکو صفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں سلام یا حسين وہ جس کا شوق فریدی جہاں میں ہے چرچا وہ جس کو سارے شہیدوں کا کہتے ہیں آقا جسے کلام خدا نے بھی ہے کہا زندہ اسی دوام و بقا کو حسين کہتے ہیں سراپس اتکو صفا کو حسين کہتے ہیں اتاِ شیرِ خدا کو حسين کہتے ہیں سلام یا حسين سلام یا حسين سلام یا حسين سلام یا حسين سلام، سلام، سلام يا حسين سلام، سلام، سلام يا حسين سلام يا حسين سلام يا حسين