
Maqam: SabaGenre: nasheed, naat, manqabat, qasidaYear: 2024Type: nasheedComposer: Hafiz Tahir Qadri
Story & Cultural Context
This Manqabat is a tribute to Imam Hussain and the martyrs of Karbala, released ahead of the 1446 Hijri Muharram season. It focuses on the arrival of the Prophet's grandson in Karbala and the spiritual significance of his sacrifice.
← Browse

AI-Enriched95%
Credits
ComposerHafiz Tahir Qadri
LyricistSiddique Ismail
ArrangementT Q Studio
ProducerHafiz Tahir Qadri
LabelT.Q Production
Story & Cultural Context
This Manqabat is a tribute to Imam Hussain and the martyrs of Karbala, released ahead of the 1446 Hijri Muharram season. It focuses on the arrival of the Prophet's grandson in Karbala and the…
Titles in Other Languages
العربيةحسين قادم إلى كربلاء
EnglishHussain is coming to Karbala
Lyrics
کربلا میں حسین آ رہے ہیں اپنے نانا کا وعدہ نباتے اپنے نانا کا وعدہ نباتے کربلا میں حسین آ رہے ہیں دین کی شان و شوکت بچانے دین کی شان و شوکت بچانے مولا حسین مرشد حسین علی کے نورِ حسن علی کے دل کا چہہ سیدہ فاطمہ کے پیارے ہیں حسین ایک طرف غیر غزاروں کا لشکر ایک جانب فقط غیر بغتر اپنے بابا کی جرت دکھانے کربلا میں حسین آ رہے ہیں اپنے نانا کا وعدہ نباتے اپنے نانا کا وعدہ نباتے مولا مولا مولا حسین دین حق کا عالم ہاتھ میں ہے ظلفکار علی ساتھ میں ہے تسرے ظلم و ستم کو گرانے کربلا میں حسین آ رہے ہیں حسین آ رہے ہیں چراغ عشق حسینی جلا محرم میں یزیدیت کا دیا بج گیا محرم میں خودا پاک کی برسیں گی رحمتیں تجھ پر حسن حسین کی محفل سجا محرم میں تیران آج تک نہ اٹھا اور نہ اٹھے گا کبھی یزیدیت کا محل یوں گیرا محرم میں جہاں میں حق و صداقت کا بول والا ہے بول بالا ہے بول بالا ہے حق کا بول بالا ہے جہاں میں حق و صداقت کا بول بالا ہے مونہ بھی کت کا خاتمہ ہوا محرم میں اپنے نانا کا وعدہ نباتے کربلا میں حسین آ رہے ہیں کربلا میں حسین آ رہے ہیں علی کے نورِ حسن علی کے دل کا چہر علی کے نورِ حسن علی کے دل کا چہر سیدہ فاطمہ کے پیارے ہیں حسین دن دہارے لوٹی گھر کی حرشے کچھ بھی شکوہ نہیں پھر بھی رب سے درس غم کو وفا کا پڑھانے کربلا میں حسین آ رہے ہیں اپنے نانا کا وعدہ نباتے کربلا میں حسین آ رہے ہیں حملہ کا غزو کے شہادہ ساتھ میں حمزہ کی ہے شجاہ لشکر شمر کے ہوش اڑھانے کربلا میں حسین آ رہے ہیں علی کے نورِ حسن علی کے دل کا چہر علی کے نورِ حسن علی کے دل کا چہر سیدہ فاطمہ کے پیارے ہیں حسین چھوڑ کر اپنے نانا کا کوچا یعنی تفصیل شہر مدینہ شمع حق و صداقت جلانے کربلا میں حسین آ رہے ہیں اپنے نانا کا وعدہ نباتے کربلا میں حسین آ رہے ہیں یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین