Skip to main content
Yeh Bil Yaqeen Hussain Hai cover art

Yeh Bil Yaqeen Hussain Hai

by Milad Raza Qadri

Album: Nasheeds

Duration: 6:12

Maqam: BayatiGenre: nasheed, manqabat, madihYear: 2021Type: nasheedComposer: Milad Raza Qadri

Story & Cultural Context

This track is a Manqabat (devotional poem) dedicated to Imam Hussain and the events of Karbala. It emphasizes the spiritual status and sacrifice of the Prophet's grandson, serving as a staple recitation during the Islamic month of Muharram.

← Browse
Yeh Bil Yaqeen Hussain Hai

Yeh Bil Yaqeen Hussain Hai

Nasheeds 6:12 2021
AI-Enriched95%
MaqamBayatiOccasionMuharram
Instruments
vocal-onlypercussionbacking-vocals

Credits

ComposerMilad Raza Qadri
LyricistSaeed Ahmed Saadi
ArrangementKamran Akhtar
ProducerMRQ Studio
LabelMRQ Records

Story & Cultural Context

This track is a Manqabat (devotional poem) dedicated to Imam Hussain and the events of Karbala. It emphasizes the spiritual status and sacrifice of the Prophet's grandson, serving as a staple…

Titles in Other Languages

العربيةيقينا هذا هو الحسين
EnglishWithout a Doubt, This is Hussain

Lyrics

لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا تمام جسم نازنی چھدا ہوا کٹا ہوا تمام جسم نازنی چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون زی وقار ہے یہ کون زی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزار قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے یہ کون حق پرست ہے ماں رضا مست ہے کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے ادھر ہزار گھات ہے مگر عجیب بات ہے کہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہے یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی خیر مرد ہے کہ جس کے دب دبے سے رنگ دشمنوں کا زرد ہے حبیب مصطفیٰ ہے یہ مجاہد خدا ہے یہ جب ہی تو اس کے سامنے یہ فوج گرد برد ہے یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے ادھر سپاہ شام ہے ہزار انتظام ہے ادھر سپاہ شام ہے ہزار انتظام ہے ادھر ہے دشمنان دین ادھر فقط امام ہے ادھر ہے دشمنان دین ادھر فقط امام ہے مگر عجیب شان ہے غزب کی آن بان ہے کہ جس طرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا تمام جسم نازنی چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون زی و قار ہے بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزار قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بل یقین حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے حسین ہے حسین ہے نبی کا نور این ہے