Skip to main content
Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai cover art

Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai

by Yashfeen Ajmal Shaikh

Album: Nasheeds

Duration: 5:58

Genre: nasheed, ilahiYear: 2020Type: nasheed

Story & Cultural Context

This track appears to be a nasheed honoring Imam Hussain (a.s.), reflecting themes of Islamic history and devotion. It is part of Yashfeen Ajmal Shaikh's singles, likely aimed at spiritual audiences in Urdu-speaking communities. The title suggests a narrative contrasting historical figures,…

← Browse
Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai

Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai

Nasheeds 5:58 2020
AI-Enriched70%
Instruments
vocal-only

Credits

LyricistYashfeen Ajmal Shaikh
LabelWithout label

Story & Cultural Context

This track appears to be a nasheed honoring Imam Hussain (a.s.), reflecting themes of Islamic history and devotion. It is part of Yashfeen Ajmal Shaikh's singles, likely aimed at spiritual audiences…

Titles in Other Languages

EnglishThere Was a Yazeed, But There Is Hussain (a.s.)

Lyrics

يا حسين يا حسين يا حسين يا حسين صدقار حسين لجبال حسين صدقار حسين لجبال حسين صدقار حسين لجبال حسين یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے کیا بتاؤں کیا حسین ہے میرا مدہ حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے بات ہے بس اتنی مختصر بات ہے بس اتنی مختصر ایک یزید تھا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے وہ جس کے نام کے نبزِ حیات چلتی ہے زمیں کا ذکر ہی کیا کائنات چلتی ہے یہ بات سین میں لگی ہے کہ جبر کے آگے اگر حسین کھلا ہے تو بات چلتی ہے ایک یزید تھا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ یزید نقشہ جو روزہ پا بناتا ہے حسین رسم حق کربلا بناتا ہے یہ یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے حسین خود نگہی برتا خدا بناتا ہے ایک یزید تھا حسین ہے ایک یزید تھا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے مرتضی کا ہے وہ شہکار آلِ مصطفی حسین ہے عرطُ حسین بادشاہ عرطُ حسین دی عرطُ حسین دی پناہ عرطُ حسین سردات کٹا دک نہ کیا یزید کی حقا کے بنا ایک لائلہ عرطُ حسین یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے ہدھر کی خاک پارو کے ماں پر لگی ہوئی ان کی لگن ہے دل کو گرابر لگی ہوئی میرا کفن ہتارِ عدب سے بنا ہوا وہ ساتھ لال دماغ سے کی جھالے لگی ہوئی سارا حسین اور حسن کا گلاب ہوں میری کی مہر ہے مجھ پر لگی ہوئی گھکر نہ لے نبی کی گھری یک سے ہوش گئی دو لفظ میں ڈھوکتی گئی دو تل لگی ہوئی آلِ مصطفیٰ حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے کربلا میں آخری نماز کر گیا عدا حسین ہے کربلا میں آخری نماز کر گیا عدا حسین ہے مٹی میں مل گئے ارادِ یزید کے میرا رضا ہے آج بھی پرچم حسین کا کر گیا عدا حسین ہے کر گیا عدا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے عرب قاب کی ہیں جنتیں عرب قاب کی ہیں رنمتیں کیونکہ آپ کا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے