Skip to main content
Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad cover art

Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad

by Zahra Ali

Album: Nasheeds

Duration: 11:39

Genre: nasheed, naatYear: 2020Type: nasheedComposer: Unknown

Story & Cultural Context

Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad is a popular Naat Sharif, a poetic expression of devotion to the Prophet Muhammad, often performed in Islamic gatherings. It symbolizes seeking blessings and abundance from the Prophet, and Zahra Ali's version brings a contemporary vocal style to this traditional…

← Browse
Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad

Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad

Nasheeds 11:39 2020
AI-Enriched70%
Instruments
vocal-onlyduff

Credits

ComposerUnknown
LyricistTraditional or possibly Ahmed Raza Khan Barelvi
ArrangementZahra Ali or her team
ProducerUnknown
LabelWithout label

Story & Cultural Context

Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad is a popular Naat Sharif, a poetic expression of devotion to the Prophet Muhammad, often performed in Islamic gatherings. It symbolizes seeking blessings and abundance…

Titles in Other Languages

EnglishFill My Lap O Muhammad

Lyrics

بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
در پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
تم زمانے کے مختار ہو یا نبی
بھیقسوں کے مددگار ہو یا نبی
سب کے سنتے ہو تم غم گسار
تم ہو ماہِ کرم کے اتار
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
در پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
ہم غریبوں سے بے اعتنائی ہوئی
ظلم و شتمے بے ہم نے سہائی ہوئی
ہم تباہی کے گارے پہ جاں لٹ گئے
کھو کے دو لخت دل کے مزے لٹ گئے
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
در پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
ہے مفاقر فرزمہ نہ آخر زمان
حالِ زبیت سے خد کے خدا وے مکان
خالقِ دو جہاں سے کیا خوف ہے
ہم تمہارے پتاوں کے مہتاج ہیں
مقدر کی سورت پناہ مانگتے ہیں
آسوں کے طوفاں سے دامن بچا لیجیے
سیاہِ سفینہ ڈبو نے کو ہے
کیجئے سوئے ساحل روانی مجھے
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
گھرِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
جو ابن مرددہ نے کیا تھا خطا
توبہ پر محرمانی نے حسین نے کہا
توبہ پر محرمانی نے حسین نے کہا
محرمانی کو کے فاطمہ زہراو کے چاند نے
ہم برکشاں نے برمانی حسین نے
بخشی میں جس نے مظلم کے سرکار کو
خرافتینیہ سے مظلم کے سرکار کو
وہ گھر نہ پائے گا محرومے کی دعا
سینے میں دل ہو جس کے وہ عشقِ مصطفی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
گھرِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
حشمِ روتی کو دیکھیں جس گھڑی
امت کے لیے نبی کی خوشی کے لیے
ہمیں کو جنتی کو پیاری زندگی
ہمیں کو جنتی کو پیاری زندگی
یا نبی کے مرنے کے جانوں سے لگی
جس نے سجدے میں سر اپنا کٹا دیا
جس نے سجدے میں سر اپنا کٹا دیا
جس پہ رضائے خدا کو بھلتا دیا
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نوازوں کا صدقہ عطا دو
گھرِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
جو ابن مرددہ نے کیا تھا خطا
توبہ پر محرمانی ہسین نے کہا
محرمانی کو کے فاطمہ زہرہ کے چاند نے
ہم برکشاں نے برمانی ہسین نے
بکشی میں جس نے مظلم کے سرکار کو
خلافتینیہ سے مظلم کے سرکار کو
وہ ہر نہ پائے گا محرومے کی دعا
سینے میں دل ہو جس کے وہ عشقِ مصطفیٰ
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نوازوں کا صدقہ عطا دو
گھرِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
سچاہِ واقعیہ ہے دادی بلال کا
دلیلے رسول پاک سے ناظران لیاوں کا
یہ ہم سے فارزانِ غلاط کہتے ہیں بلال
اے غمزدہ ہو رہا تھا کیسے میری کیا حال
ہم سے فارزانِ غلاط کہتے ہیں بلال
بگتی زبان سے زنجیر کا دور کیوں ہوئی تھی
خدمتِ زنجیر کا دور کیوں ہوئی تھی
خدمتِ زنجیر کا دور کیوں ہوئی تھی
اِس طرح زنجیر کا دور کیوں ہوئی تھی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
درِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
میں نے شرکِ روز پیشِ خدا ہوں گے جس گھڑی
ہوگی خدا ہنگاروں میں جس درِ جبیں کلی
آتے ہوئے نبی کو جو نیک دیکھ لوں
سب سے پہلے خوشی میں پھرے خوشی میں دیکھوں
خوشی میں پھرے خوشی میں دیکھوں
ان کے ہاتھوں کو آنے دیکھوں
منتے دیکھوں محمد
ان کے ہاتھوں کو آنے دیکھوں
منتے دیکھوں محمد
نشانِ سبزے ہی دیدار کی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
درِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
سچاہِ واقعیہ ہے دادی بلال کا
دلیلے رسول پاک سے ناظرانیوں کا
یا مصطفیٰ کا نگل کہتے ہیں بلال
اے غمزدہ ہو رہا تھا کیسے میری کیا حال
ہم سے وصافانی سجیدتی
بختی زنجیریں ساڑھی زہروں کی
بختی زنجیریں ساڑھی زہروں کی
یا نبی کے پاؤں سے پیا صفا بے باسا
یا زخموں سے فاسد کی ہر شاہِ انبیاء
دیکھا سب سے سبے زخموں نے جپڑا دیا
عاشق کے جسمہ میں جہاں میں ایک لیلہ دلال
کے دلانا کے دلانا کے دلانا کے دلانا کے دلانا کے دلانا کے
عرشِ والے بھی سنتے تجھے سے ہوئے ہو یا نبی
کیا رتبہ ہے دادی بلال
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
درِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
درِ شر کے روز پیشے خدا ہوں گے
جس گھڑی ہوگی خدا ہنگاروں میں جس درِ جبیں کلی
آتے ہوئے نبی کو جو نیک دیکھ لوں
سب سے پہلے خوشی میں پھرے خوشی میں دیکھوں
ان کے ہاتھوں کو آنے دیکھوں
منتے دیکھوں محمد کے لانے
نشانِ سبزے ہی دیدار کی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
درِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
سچاہِ واقعیہ ہے دادی بلال کا
دینیلے رسول پاک سے ناظران لیاوں کا
یا مصطفیٰ کا نگل کہتے ہیں بلال
اے غمزدہ ہو رہا تھا کیسے میری کیا حال
ہاں سے بسافانِ غلاط کہتے ہیں بلال
بگتی زبان سے زنجیر کا دور کیوں ہوئی تھی
خدمت فیزل عائزن بگتی زبان سے دور کیوں ہوئی تھی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
درِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
جو ابن مردہ زہر نے کیا تھا خطا
توبہ پر محرمانی حسین نے کہا
توبہ پر محرمانی حسین نے کہا
محرمانی کو کے فاطمہ زہرہ کے چاند نے
ہم برکشاں نے برمانی حسین نے
بخشی میں جس نے مظلوم کے سرکار کو
خلافتینیہ سے مظلوم کے سرکار کو
وہ گھر نہ پائے گا محرومے کی دعا
سینے میں دل ہو جس کے وہ عشقِ مصطفیٰ
بھری تو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گی خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا دو
درِ پیا آئی ہوں بن کر سوالی
بھری تو