Genre: nasheed, naatType: nasheed
Story & Cultural Context
This track appears to be a nasheed by Zahra Ali, likely praising the Prophet Muhammad (PBUH), as indicated by the title which translates to references of the one with the crown and the ascension. It is part of her singles and combines Urdu and English, reflecting themes common in Islamic devotional…
← Browse

AI-Enriched70%
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This track appears to be a nasheed by Zahra Ali, likely praising the Prophet Muhammad (PBUH), as indicated by the title which translates to references of the one with the crown and the ascension. It…
Titles in Other Languages
EnglishThe One with the Crown and the Master of Ascension
Lyrics
صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ شان سواری برا کو امیر الان دافئے غیب لا دافئے غیب با دافئے گہت و امراز و رنج و غم صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ جس میں لکھا گیا اسم اونچا ہوا اسم مہر قبول شفاعت بھی ہے اس میں کی برکتیں اس میں کی رانکیں اس میں لا ہو قلم کی امانت بھی ہے کیا رب کیا جم سب کے سردار ہیں سب کے سردار کا ہے مقدس بدن درم کعبہ کو وہ جو منور کرے وہ مہک جی وہ پاکی ذسیق کی رنگ صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ جل ستگاہوں کا سورج وہ جداب کا آپ گھر شب کے ظلمت کے مہتاب ہیں صدر مضم بولندی اور فقت کے ہیں رہ گزار ہدایت کے مہتاب ہیں ساری مخلوق کی ہے وہ جائے امام ساری تاریخیوں کے وہ روشن چراغ ایک زینت کے بندے کرتے بہرے گے ان کے ہاتھوں ملے بخششوں کے امام صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ ایسے پیروں تلک وہ کرم ہی کرم رب حفاظت کرے دل یقی اپ کی ان کی خدمت گزاروں میں جیبریل ہیں اور سواری وراک حسی اپ کی سفر ان کا ہے میراج اور صدرہ تلمنت امام مصطفی اور مقام ان کا ہے اب کوس نکامرت امام ان کا مطلب ہے اور دار السلام ان کا ہے صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ اور مطلوب ہی ان کا مقصود ہے اور مقصود ہی ان کا موجود ہے آپ سارے رسولوں کے سردار ہیں آپ کا صرف اللہ ہی معبود ہے بعد میں سارے نبیوں کے آئیں گے وہ تو شمائیں گے غیرت گناہ گار کو اور مسافر کی طیب سے ہیں غم خاریاں رہمتی بانٹی تے ہیں وہ سنسار کو صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ آشکوں کے دلوں کی وہ تسکین ہیں اور مرادیں ہیں ایک ساتھی بے شاکھ کی حق شناسو کے خرشید خواوے ہیں وہ سارے کینے رہے عشق کی روشنی پیار محبت جو فرشت سے بستی کی سینہ پر مپرہب کی وہ رہے نمائی تے رہنوں انسان کے سردار دونوں بھرم دونوں کے بلوں کی وہ پیش بائی کنیں صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ دنیا اور آخرت کا وسیلہ ہے وہ ہے دبائی کعبہ کوسن جن کو ملا دونوں ہی مشرقوں مغربوں کا وہ رب حاصل ان کو خطاب ان کے محبوب کا جدہ ہم جدہ ہیں سنین کے اور ہم جن انسان کے آقا مولا بھی ہیں باپ قاسم کے بیٹے ہے عبداللہ کے نورے لاہ کے کاغے ساتھ وہ صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ اے خدایا لنور جمال نبی آپ پہاے لو اسحاب پہ صبح و شام اے خدایا لنور جمال نبی آپ پہاے لو اسحاب پہ صبح و شام جیسے حق بیجنی کا بھیجو بسد احترام و محبت درود و سلام صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ شان سواری براکو امیر الان دافئے غیب لا دافئے غیب با دافئے گہت و امراز رنج و غم صاحب تاج وہ شاہ مہراج وہ
